30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الطائف دارًا، وقال لان اذنب خمسین ذنبا برُکْبَۃ، وھو موضع بقرب الطائف احب الٰی من ان اذنب واحدا بمکۃ ١[1] ۔ قلت یشیر بالدعاء الی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اللھم فقھہ فی الدین [2]، وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اللھم علمہ الکتاب ٣[3]، اخرجھما الشیخان ،وانما الفقیہ کما قالہ الامام الحسن البصری رحمہ اﷲ تعالٰی الزاھد فی الدنیا الراغب فی الاٰخرۃ البصیرۃ بعیوب نفسہ ومثل ھذا یتأھل للجوار لاشك واﷲ قد کان ابن عباس من اعاظم اھلہ و لکن الاکابر انفسھم یستصغرون فانظر الی الفرق، من لا یسئم یخشی السأمۃ ومن لایسلم یدعی السلامۃ۔
(قال) وعن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ مامن بلدۃ یؤاخذ العبد فیہا بالھدایۃ قبل العمل الامکۃ و |
اور فرمایا: رُکْبَہ (طائف کے قریب جگہ کا نام ہے) کے مقام پر پچاس گناہ کرنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں مکہ میں ایك گناہ کروں۔ میں کہتا ہوں دعا سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اس دعا کی طرف اشارہ ہے:"اے اللہ! ابن عباس کو دین کی سمجھ عطا فرما۔"اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ دعا بھی ہے:"اے اللہ! ابن عباس کو کتاب کا علم عطا فرما۔"یہ دونوں دعائیں بخاری ومسلم میں ہیں، فقیہ کی تعریف امام حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے یوں کی ہے: دنیا سے اعراض کرنے والا، آخرت کا شوق رکھنے والا، اور اپنے عیوب سے آگاہ شخص فقیہ کہلاتا ہے۔ ایسے لوگ بلاشبہ مجاورت مکہ کے اہل ہیں اور اللہ کی قسم حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان اہل لوگوں میں سے بھی بڑے ہیں لیکن اکابر ہمیشہ اپنے آپ کو چھوٹا اور عاجز سمجھتے ہیں، غور تو کیجئے کتنا فرق ہے ان میں کہ جو غلطی نہیں کرتا وہ عذاب سے ڈرتا ہے اور جوگناہ سے محفوظ نہیں وہ سلامتی کا دعویٰ کرتا ہے۔ پھر لکھا حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ کسی شہر میں عمل سے پہلے محض برائی کے ارادے پر گرفت نہیں مگر مکہ میں، پھر یہ آیت تلاوت کی: |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع