30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اذ لا عطر بعد عروس قال قدسنا اﷲ تعالٰی بسرہ الکریم ونفعنا فی الدارین بفضلہ، الفخیم فی فتح القدیر شرح الھدایۃ اختلف العلماء فی کراھۃ المجاورۃ بمکۃ وعدمھا فذکر بعض الشافعیہ ان المختار استحبابھا الا ان یغلب علی ظنہ الوقوع فی المحذور وھذا قول ابی یوسف ومحمد رحمھما اﷲ تعالٰی وذھب وابوحنیفۃ ومالك رحمھما اﷲ تعالٰی الٰی کراھتھا [1]۔ قلت والمراد کراھۃ التحریم اذا ھو المحمل عندا لاطلاق وبدلیل قول المحقق فیما سیأتی"لایذکر حالھم قیدا فی جواز الجوار"٢[2] اھ۔ (قال) وکان ابوحنیفۃ یقول انھا لیست بدار ھجرۃ وقال مالك وقد سئل عن ذٰلک، ماکان الناس یرحلون الیھا الاعلی نیۃ الحج، والرجوع وھوا عجب و ھذا احوط لما فی خلافہ من تعریض النفس علی الخطر اذطبع الانسان التبرم والملل من توارد ما یخالف ھواہ فی المعیشۃ وزیادۃ الانبساط المخل |
شادی کے بعد عطر کیا کرنا ہے انھوں نے (اللہ تعالیٰ ہمیں دارین میں ان کے علوم وفیوض سے بہرہ ور فرمائے) نے فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرمایا: مکہ مکرمہ کی مجاورت مکروہ ہے یا نہیں، اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے، بعض شوافع نے کہا کہ مختار قول کے مطابق مستحب ہے لیکن جب غالب گمان ممنوعات کے ارتکاب کا ہو تو پھرمکروہ ہے، امام ا بو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ کا بھی یہی قول ہے امام ابو حنیفہ اور امام مالك رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیك مجاورت مکروہ ہے۔ میں کہتا ہوں یہاں کراہت سے مراد تحریمی ہے کیونکہ جب لفظ کراہت مطلقًا ہو تو اس سے یہی مراد ہوتی ہے۔ اھ محقق کا آئندہ قول بھی اسی پر دلیل ہے کہ قلیل لوگوں کے حال کو جوازِ مجاورت کے لیے بطور قید ذکر نہیں کیا جاتا اھ۔ آگے لکھا امام ابو حنیفہ نے فرمایا مکہ مقام دارالہجرت نہیں، امام مالك سے جب اسی بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا لوگوں کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ حج ادا کرکے واپس ہوجائیں، اور یہ قول نہایت محبوب ہے اور یہی احوط ہے کیونکہ اس کے خلاف کرنے میں اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنا ہے کیونکہ انسانی طبیعت یہ ہے کہ بار بار خلاف خواہش کرنے سے اس کی زندگی میں ملال و پریشانی پید اہوتی ہے، اسی طرح |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع