30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قلت وانما اراد سنۃ الصحابۃ ما عدا المھاجرین اما المھاجرون فقد کانوا عن الاقامۃ محجورین، فلا یدل قفولھم علٰی استنانہ کما لا یخفی، ثم ان العبدری نقل من بعض اکابر الاولیاء قدست اسرارہم،ان جاور بمکۃ اربعین سنۃ ولم یبل فی الحرم ولم یضطجع، قال فمثل ھذا تستحب لہ المجاورۃ اویو مربھا والموضع موضع ربح لا موضع خسارۃ، فیحرم نفسہ الربح لقلۃ الادب الذی یصدر منہ وقلۃ الاحترام"قال"وقد حکی لی السید الجلیل ابو عبداﷲ القاضی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ انہ احتاج الٰی قضاء حاجۃ الانسان وھو فی المدینۃ فخرج الٰی موضع من تلك المواضع وعزم ان یقضی حاجتہ فیہ ،فسمع ھاتفا ینھاہ عن ذٰلك فقال الحجاج یعملون ھذا، فاجابہ الھاتف، بان قال واین الحجاج واین الحجاج واین الحجاج ثلث مرات، فخرج من البلد حتی قضی حاجۃ ثم رجع [1] اھ۔ "وقد اطال الکلام فیہ الی ان قال"ثم لو فرض ان المجاور لا یبا شر |
قلت یہاں امام مالك نے سنت سے مراد غیر مہاجرین صحابہ کی سنت لی ہے، رہے مہاجرین صحابہ، تو ان کے لیے مکہ میں اقامت ممنوع تھی، لہذا ان کا لوٹنا سنت پر دال نہیں جیسا کہ واضح ہے۔ پھر شیخ عبدری نے بعض اکابر اولیاء قدست اسرارہم کے بارے میں یہ بھی نقل کیا کہ وہ چالیس سال مکہ میں رہے مگر حرم کعبہ میں پیشاب نہ کرتے اور نہ ہی وہاں لیٹتے تھے، پھر فرمایا ایسے لوگوں کے لیے مجاورت مستحب ہے، یا انھیں کو اجازت دی جاسکتی ہے اور یہ مقام سراپا نفع ہے خسارہ نہیں تو قلتِ ادب اور قلت احترام کی بنا پر انسان خود کو نفع سے محروم نہ کرے، پھر فرمایا مجھے السید الجلیل ابو عبداللہ القاضی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں بیان کیا گیا کہ انھیں شہر مدینہ میں رفع حاجت کی ضرورت پیش آئی تو وہ شہر میں ایك مقام کی طرف گئے اور وہاں قضاءِ حاجت کا ارادہ کیا تو غیب سے آواز آئی جو اس عمل سے انھیں منع کررہی تھی تو انھوں نے کہا تمام حجاج ایسا کرتے ہیں، تو جواب میں تین دفعہ آواز آئی، کہاں کے حجاج، کہاں کے حجاج، کہاں کے حجاج۔ پھر وہ شہر سے باہر چلے گئے اور رفعِ حاجت کی اور پھر لوٹے اھ طویل گفتگو کے بعد لکھتے ہیں کہ بالفرض مجاورت کرنے والا کوئی ایسا عمل نہیں کرتا جو ذکر ہوا تو اس کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع