30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اوقول احدھما الالضرورۃ وان صرح المشائخ بان الفتویٰ علی قولھما[1] کما فی صلٰوۃ البحر وشہادات الخیریۃ وھذا امیرالمومنین عمرالفاروق الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ، کان اذا فرغ من حجہ یدور فی الناس و یقول یا اھل الیمن یمنکم ویااھل العراق عراقکم ویا اھل الشام شامکم ٢[2] فانہ اھیب لبیت ربکم فی اعینکم ، اوکما یقول رضی اﷲ تعالٰی عنہ
قلت وکان ھذا والناس انما ھم صحابۃ اوتابعون و ھم ماھم من غایۃ الادب ونھایۃ الاجلال، فما بال اھل الزمان اھل کیت وذیت، واﷲ المستعان لاصلاح الاحوال، وقد سئل امام دار الھجرۃ، عالم المدینۃ مالك بن انس رحمہ اﷲ تعالٰی ایما احب الیك المجاورۃ اوالقفول فاجاب ان السنۃ الحج ثم القفول[3] کما نقلہ العلامۃ محمد العبدری فی مدخلہ۔ |
قول کی طرف اعراض کی اجازت نہیں البتہ اس صورت میں جو مذکور ہے اگرچہ کچھ مشائخ نے تصریح کی ہے کہ فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے جیسا کہ بحر کے باب الصلوٰۃ میں اور فتاویٰ خیریہ کے باب الشہادات میں ہے حالانکہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھئے وہ جب حج سے فارغ ہوتے تو لوگوں میں دورہ کرتے اور فرماتے: اے اہل یمن! یمن چلے جاؤ، اے اہل عراق! عراق چلے جاؤ، اے اہل شام! اپنے وطن شام لوٹ جاؤ تا کہ تمھارے ذہنوں میں تمھارے رب کی گھر کی ہیبت خوب قائم رہے۔ میں کہتا ہوں یہ اس دور کی بات ہے جب صحابہ یا تابعین تھے جو نہایت مؤدب اور نہایت ہی احترام واکرام کرنے والے تھے، ہمارے اس دور کا کیا حال ہوگا، اللہ تعالیٰ ہی اصلاح و احوال کی توفیق دے، امام دارالہجرت، عالم مدینہ حضرت امام مالك بن انس رحمہ اللہ تعالیٰ سے پوچھا گیا کہ آپ کو مجاورت محبوب ہے یا لوٹنا؟ فرمایا: سنت یہ ہے کہ حج کیا جائے پھر واپس ہو، جیساکہ علامہ محمد عبدری نے مدخل میں ذکر کیا ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع