30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لو علم مافی احزان الوالدین وادخال الغم علیھما لما ارادھا کما ورد عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ قال لوکان جریج الراھب فقیھا عالما لعلم ان اجابۃ دعاء امہ اولی من عبادۃ ربہ [1] اخرجہ الحسن بن سفین فی مسندہ والحکیم المولی الترمذی فی نوادرہ وابن قانع فی معجمہ، والبیھقی فی شعب الایمان عن شھر بن حوشب عن حوشب بن یزید عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ فھذا الحدیث وان بقیت الفقہ فقد نقل العلامۃ البحر فی البحرالرائق تفصیلًا برخصۃ ونھٰی فی مسئلۃ حج الولد بلا اذن الوالد ثم قال ھذا کلہ فی حج الفرض اما حج النفل فطاعۃ الوالدین اولی مطلقا کما صرح بہ فی الملتقط ٢[2] اھ نقلہ العلامۃ ابن عابدین فی ردالمحتار۔ قلت فاذا کان ھذا حکمھم فی الحج وانت ترید القفول، فکیف وانت عازم ان لا ترجع، وقد وضع فی الھندیۃ، ضابطۃ حسنا فی امثال ھذہ المسائل |
والدین کو پریشان کرنے میں کیا سزا ہے تو ہجرت کا ارادہ ترك کردے۔ جیساکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہے کہ جریج راہب فقیہ وعالم ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے والدہ کے بلاوے کا جواب اولیٰ ہے، حسن بن سفیٰن نے مسند میں، حکیم ترمذی نے نوادر میں،ابن قانع نے معجم میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں شہر بن حوشب سے، انھوں نے حوشب بن یزید سے، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بیان کیا ہے: یہ تو احادیث تھیں،باقی رہے فقہاء تو علامۃالبحر نے بحرا لرائق میں تفصیلًا رخصت کی تفصیل تحریر کی، اور جبکہ اجازت والد کے بغیر اولاد کو حج کرنے سے منع کیا پھر فرمایا یہ تمام بحث حج فرض میں ہے، رہا نفل حج، تو اس میں اطاعتِ والدین ہر حال میں اولیٰ ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے اھ اسے علامہ ابن عابدین نے ردالمحتار میں نقل کیاہے۔
میں کہتا ہوں یہ انھوں نے حج کے بارے میں حکم دیا ہے جس میں تو واپس کوچ کا ارادہ رکھتا ہے یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے جبکہ تو واپس نہ ہو نیکا عزم رکھتا ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ایسے مسائل کے بارے میں بہت عمدہ ضابطہ بیان کیا ہے، وہ یہ ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع