30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وسلم المرویۃ من طریق عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ، عند مسلم[1] فی صحیحۃ ومن حدیث علی کرم اﷲ وجہہ عند الحاکم [2]بسند صحیح اعنی ولی اﷲ سیدنا اویس القرنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ منعتہ خدمۃ امہ والبربھا ان یاتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ویتشرف بذاك الشرف الاھم الاعظم، ھو صحبۃ نبی اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، فما ظنك بھٰذا الذی یسمیہ الناس ھجرۃ وماوھو بھجرۃ وانما الھجرۃ ھجران الذنوب، نسأل توفیقہ من رب القلوب۔ اخرج البخاری وابوداؤد والنسائی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال قال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ والمھاجر من ھجرما نھی اﷲ تعالٰی عنہ [3]۔ وماحسن ماقال اخوالعجم ؎ گردر یمنی وبامنی پیش منی ورپیش منی وبے منی دریمنی وھو معنی ما قال اٰخر: ؎ |
تعالٰی عنہ سے اور حاکم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:تمام تابعین میں افضل شخصیت ہے یعنی ولی اللہ حضرت سیدنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ انھیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں آکر اعلیٰ وافضل مقام حضور نبی پاك صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صحبت پانے سے مانع فقط والدہ کی خدمت اور حسن سلوك ہی تھا، اب ذرا سوچئے اس عمل کا کیا مقام ہے جسے لوگوں نے ہجرت کا نام دے رکھا ہے حالانکہ یہ ہر گز ہجرت نہیں، ہجرت تو حقیقۃً گناہوں کا چھوڑنا ہے، ہم رب قلوب سے اسکی توفیق کے طلبگار ہیں۔ بخاری، ابوداؤد اور نسائی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ ہوا ور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ اور اخوالعجم نے کیا خوب کہا ہے: اگر تو یمن میں ہے اور میرے تصور میں ہے تو میرے سامنے ہے اور اگر تو میرے سامنے ہے لیکن میرے تصور میں نہیں تو تو یمن میں ہے، کسی اور شاعر نے بھی یہی بات یوں کہی ہے: |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع