30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرط ہے بغیر اس کے نیّت مہمل ، فی مجمع الانھرالزکوٰۃ عبادۃ فلابدّفیھامن الاخلاص [1] (مجمع الانہر میں ہے زکوٰۃ عبادت ہے لہٰذا اس میں اخلاص شر ط ہے۔ ت) ور اخلاص کے یہ معنٰی کہ زکوٰۃ صرف بہ نیّتِ زکوٰۃ و ادائے فرض و بجا آوری حکم الٰہی دی جائے ، اس کی ساتھ اور کوئی امر منافیِ زکوٰۃ مقصود نہ ہو۔ تنویر الابصار میں ہے :
|
الزکوٰۃ تملیك جزء مال عینہ الشارع من مسلم فقیرغیرھاشمی ولامولاہ مع قطع المنفعۃ عن المملك من کل وجہ ﷲ تعالٰی۔[2] |
زکوٰۃ شارع کی مقرر کردہ حصہ کا فقط رضائے الہٰی کے لئے کسی مسلمان فقیر کو اس طرح مالك بنانا کہ ہر طرح سے مالك نے اس شے سے نفع حاصل نہ کرنا ہو بشرطیکہ وُہ مسلمان ہاشمی نہ ہو اور نہ ہی اس کا مولیٰ ہو ۔ (ت) |
درمختار میں ہے:
|
ﷲتعالٰی بیان لا شتراط النیّۃ۔ ٣[3] |
"اﷲکےلئے ہو"کے الفا ظ نیت ہی کو شرط قرار دینے کیلئے ہیں۔ (ت) |
ردالمحتار میں ہے :
|
متعلق بتملیك ای لاجل امتثا ل امرہ تعالٰی ۔ [4] |
ان کلمات (ﷲ تعالٰی )کا تعلق لفظ تملیك سے ہے یعنی یہ عمل فقط اپنے رب کریم کے حکم کی بجا آوری کے طور پر ہو ۔ (ت) |
پھر اس میں اعتبار صرف نیّت کا ہے اگر چہ زبان سے کچھ اور اظہار کرے ، مثلًا دل میں زکوٰۃ کا ارادہ کیا اور زبان سے ہبہ یاقرض کہہ کردیا صحیح مذہب پر زکوٰۃ ادا ہوجائیگی۔ شامی میں ہے :
|
لااعتبارللتسمیۃفلوسماھا ھبۃاوقرضا تجزیہ فی الاصح۔[5] |
نام لینے کا اعتبار نہیں ، اگر کسی نے اس مال کو ہبہ یا قر ض کہہ دیا تب بھی اصح قول کے مطابق زکوٰۃ ادا ہوجائے گی(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع