30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن عبداﷲ بن عمر وبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہم، ومسلم وغیرہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ، قال جاء رجل الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاستاذنہ فی الجھاد فقال احی والداک، قال نعم، قال ففیھما فجاھد [1]۔
قلت ولا اقول ان مجرد عدم الذکر ذکر العدم، حتی ترجع تقول واقعۃ حال فلا شمول، فما یدریك لعلھا کانا مفتقرین الیہ، وانما اقول ان المسائل لم یبین، والنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لم یستبن، فترك السؤال دلیل الارسال۔
واخرج مسلم فی روایۃ لہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال اقبل رجل الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، فقال ابایعك علی الھجرۃ والجھاد ابتغی الاجر من اﷲ تعالٰی، قال فھل من والدیك احد حی، |
کے علاوہ ائمہ ستہ نے حضرت عبداللہ بن عمر وبن عاص ر ضی اللہ تعالیٰ عنہما سے، اور مسلم اور دیگر محدثین نے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ ایك شخص نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر جہاد پر جانے کی اجازت چاہی، آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ عرض کی: ہاں۔ فرمایا: جاؤ ان کی خدمت میں محنت کرو، میں کہتاہوں میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ محض عدم ذکر ذکرِ عدم ہے، حتی کہ یہ اعتراض ہو کہ یہ تو ایك مخصوص واقعہ ہے جس کا حکم عام نہیں، کیا علم کہ وہ والدین محتاج خدمت ہوں، میں تویہ کہہ رہا ہوں کہ سائل نے ان کی محتاجی بیان نہیں کی اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی تفصیل پوچھی، سوال کا نہ کرنا اس بات پر دلیل ہے کہ محتاج ہونا ضروری نہیں ۔ امام مسلم نے ایك روایت میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ایك شخص نے حضو رصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیا، آقا! میں اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی خاطر ہجرت اور اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے آپ کے دست اقدس پر بیعت چاہتا ہوں، آپ نے پوچھا: تیرے والدین میں سے کوئی ایک |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع