30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
البران لاتعصیھما اذا صرحا بشی وتخا لفھما فی ما سوی ذٰلك ولکن البران لاتاتی مایکرھانہ وان لم یخاطباك فیہ بشی فانہ الطاعۃ والارضاء کلاھما واجبان والمعصیۃ والاسخاط جمیعا محرمان وھٰذا ن اعنی السخط والرضا لایختصان بما تقدما فیہ بصریح البیان کما لایخفی۔وحسبك ما اخرج الترمذی وابن حبان والحاکم وصححہ والطبرانی عن عبداﷲ بن عمرو، والبزار عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم انہ صلی اﷲ تعالٰی عیہ وسلم قال رضی الرب فی رضی الوالد وسخط الرب فی سخط الوالد[1] ، ولفظ البزار الوالدین فی الموضعین [2] وقد اشار النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من اراد الجھاد و الھجرۃ الیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان یرجع فیخدم ابویہ ولیس فی الحدیث انھما کانا مفتقرین الیہ، اخرج احمد والستۃ الا ابن ماجۃ |
میں کہتا ہوں نیکی ان کے ساتھ یہ نہیں کہ ان کے حکم کی صریح کی تو نافرمانی نہ کی جائے اورا س کے علاوہ میں ان کی مخالفت کی جائے، ہا ں نیکی یہ ہے کہ کسی معاملہ میں بھی انھیں پریشان نہ کیا جائے اگر چہ وہ اولاد کوکسی معاملہ کا حکم نہ دیں، کیونکہ طاعت اور راضی کرنا دونوں واجب ہیں اور نافرمانی اور ناراض کرنا دونوں حرام ہیں اور یہ ناراض اور راضی کر نا ان کے صریح حکم کے ساتھ ہی مخصوص نہیں، جیسا کہ مخفی نہیں۔اس پر دلیل یہ روایت ہی کافی ہے کہ امام ترمذی، ابن حبان، حاکم (انھوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور طبرانی نے حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور بزار نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا کہ رحمۃ العٰلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے، مسند بزار میں دونوں مقامات پر والد کی جگہ والدین کا لفظ ہے، کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس رہنے کی اجازت چاہی آپ نے انھیں والدین کی خدمت کا حکم دیا، ان احادیث میں یہ کہیں تصریح نہیں کہ والدین ان کی خدمت کے محتاج تھے،امام احمد، ا بن ماجہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع