30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذریعہ ہوگی ان شاء اﷲتعالیٰ قابلِ امداد واعانت اہلِ اسلام ہے یانہیں، جبکہ حضور سلطان المعظم اُس کو خاص مسلمانوں کے روپے سے تعمیر واجرا کرانے میں بہت سعی وکوشش فرمارہے ہیں اور اس اعانت کو اجر چندہ دہند گان کو ملے گا یا نہیں؟کیونکہ بعض کوگمان ہوتا ہے کہ ریل کا بننا ہی غلط بیانی ہے، بعض تردد کرتے ہیں کہ روپیہ وہاں تك پہنچتا ہی نہیں، حالانکہ یہ امر قابل اطمینان پایا گیا ہے، قسطنطنیہ سے رسیدات مہری ڈاکخانہ وغیرہ بسند کافی آئی ہیں، بعض مقاموں خاص کر پیلی بھیت میں مسلمانوں نے یہ معلوم کرکے کہ حضور والا نے چندہ دینے کو منع فرمایا ہے اس سبب سے سب مسلمان کہ مطیع حکم حضور کے رہتے ہیں جو دراصل صحیح حکم خدا اور رسول صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کا ہوتا ہے، چندہ دینے لینے سے باز رہے لیکن اس بارے میں ارشاد حضور کیا ہے؟ بینو اتوجروا
الجواب :
حجاز ریلوے مسلمانوں کے نفع وآرام کی چیز ہے، نیت صالحہ سے اس میں شرکت ان شاء اﷲتعالیٰ باعثِ اجروبرکت ہے۔ بعض حاجیوں کو یہ خیال کہ ریل بننا ہی غلط ہے بلکہ بیچ کے لوگوں نے یہ شعبدہ اٹھارکھا ہے روپیہ جو جاتا ہے تغلب خائنان میں آتا ہے، اس میں پہلا فقرہ محض غلط و سوئے ظن ہے وہ بھی صریح یقین کے مقابل،اورپچھلا فقرہ اگر چہ بعض مواضع پر صحیح ہونا ممکن، اور تجربہ شاہد ہے کہ ضرور کہیں صحیح ہوگا، ایسے معاملات میں بہت کاذب وخائن کھڑے ہوجاتے ہیں،مگر نہ سب یکساں ہیں نہ بعد حصول ذرائع اطمینان، اجازت سوئےگمان ہے اور بالفرض ہو بھی، تو مسلمان جس نے لوجہ اﷲتعالیٰ دیا اپنی نیت پر اجر پائے گا فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللہِ ؕ [1] ( تو اس کا ثواب اﷲکے ذمہ ہوگیا۔ت) فقیر نے اس میں اعانت پر کبھی انکار نہ کیا، البتہ بعض جاہلان علم ادعانے یہ کہہ دیا تھا کہ اس کی اعانت فرض ہے کہ بے امنیِ راہ کے باعث فرضیتِ حج میں خلل ہے، ریل کا بننا اس خلل کا ازالہ کرے گا، اور مقدمہ فرض فرض ہوتا ہے اس کامیں نے رد کیا تھا کہ یہ محض جہالت ہے، اوّل بحمد ﷲتعالیٰ ہرگز راہ میں بے امنی نہیں، جسے حق سبحانہ نے وہ سفرِ کریم بخشا اور اس کے ساتھ ایمان کی آنکھ اور عقلِ سلیم عطا کی ہے اُس نے موازنہ کیا اور معلوم کرلیا ہے وہاں باآنکہ بارہ منزل کے اندر صرف دو ایك چوکیاں ہیں، بحمدہٖ تعالیٰ وہ امن وامان رہتی ہے کہ یہاں قدم قدم پرچوکی پہرے کی حالت میں ہو، جس قافلہ میں یہ فقیر١٢٩٥ھ میں اپنے رب کے دربار سے اس کے حبیب کی سرکار میں حاضر ہوتا تھا جلّ جلالہ، وصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم، قافلہ بعد زوال ظہروعصر پڑھ کر وہاں ہوتا اور وقتِ مغرب خفیف قیام کرتا کہ لوگ مغرب وعشاء کے فرض و وتر پڑھ لیتے، شافعیہ اپنے مذہب پر ایسا کرتے اور حنفیہ بضرورت تقلید غیر پر عامل ہوتے کہ بحالتِ ضرورت اُن شرائط پر کہ فقہ میں مفصل ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع