30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قلت وانما جعل التاکد علی المکی اکثر لان عذرہ اقل کما اشارہ الیہ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ |
ہے اور پڑوسی ہوکر زیارت کا تارك ہوتو گویا اس نے ظلم کیا، خصوصًا جب اپنے شوق اور عادت کو پُورا کرنے میں تو قرض تك کا ارتکاب کرتا ہو اور ان اعمال میں خرچ نہیں کرتا جو عبادات میں افضل ہیں اھ میں کہتا ہوں مکی لوگوں پریہ تاکید اکثر ہوگی کیونکہ ان کا عذر اقل ہے جیسا کہ انہوں نے اس طرف اشارہ فرمایا۔واﷲتعالیٰ اعلم(ت) |
مسئلہ ٢٩٧تا٢٩٨: حافظ محمد ایاز صاحب از نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پٹھان پورہ محرم ١٣٣٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسائل ذیل میں بموجب حکم شرع شریف ارشاد فرمائیے اﷲتعالٰی اجرِ عظیم عطا فرمائے۔
(١)اگر ماہِ شعبان میں کوئی شخص مکہ معظمہ پہنچ جائے اور رمضان شریف میں وہاں قیام کرے اور نہایت اطمینان سے طواف وسنگِ اسود شریف کا بوسہ وغیرہ ادا کرے تو جیساثواب ایامِ حج میں ہوتا ہے ویسا ہی ہوگا یا اس میں اور اس میں کچھ فرق ہوگا اور وہی ثواب ایك نماز کا ملے گا جیسا کہ ایك لاکھ کا اور صدقات وغیرہ میں بھی اسی کے مثل ہوگا یا نہیں، حالانکہ شخص مذکورایامِ حج میں بھی ارکانِ حج ضرور ادا کرے گا۔
(٢) اگر ماہِ شعبان میں کوئی شخص مدینہ پہنچ جائے اور وہاں رمضان المبارك میں قیام کرے اور روضہ مطہرہ کی زیارت کرتا رہے اور ہمراہ قافلہ مدینہ منورہ کے مکہ معظمہ پہنچ کر حج کے ارکان ادا کرے یا ماہِ شوال میں اول مدینہ منورہ جائے اور وہاں زیارتِ حضوراقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے اطمینان کے ساتھ فراغت پاکر مکہ معظمہ جائے اور وہاں حج کے ارکان ادا کرکے اپنے مکان کو چلاآئے، تو ان صورتوں میں شخص مذکورہ کو ثواب اسی درجہ ملے گا جیساکہ حجِ بیت اﷲشریف کے بعد مدینہ طیبہ جانے کا ہوتا ہے یا کچھ کم ہوگا؟ حاصلِ کلام یہ کہ اول مدینہ منورہ جانا اور وہاں سے قافلہ کے ساتھ بیت اﷲشریف آنا اور ارکانِ حج ادا کرکے مکان کو واپس آجانا درست ہے یانہیں اور اس کا ثواب مثل بعد مدینہ شریف جانے کے ہے یانہیں؟ عند اﷲجواب سے مشرف فرمائیے، اس کے اُوپر یہاں بہت جھگڑا ہورہا ہے، اﷲتعالیٰ ثواب دارین عطا فرمائے۔
الجواب:
(١)حرم محترم کے اعمال کا ثواب اُس زمین پاك کے اعتبارسے ہے، نہ زمانِ حج کی خصوصیت سے،ایك نیکی پر لاکھ کا ثواب جیسے زمانہ حج میں ہوگا ویسے ہی دیگر اوقات میں، اور طوافِ کعبہ معظمہ جو حج میں کیا جائے گا اگر وُہ طواف فرض ہے جب تو ظاہر ہے کہ فرض کے ثواب کو دوسری چیز نہیں پہنچ سکتی اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع