30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٢٩٦: ازپیلی بھیت مرسلہ حضرت مولانا وصی احمد صاحب محدث سُورتی رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ ١٣رمضان ١٣٢٥ھ
جو شخص دُور دراز سفر کرکے حج نفل کرے اور زیارتِ سرورِ کائنات علیہ التحیۃ والصلٰوۃ نہ کرے تو وہ مصداق ا س حدیث کا ہوسکتا ہے کہ"جو شخص حج کرے اور میری زیارت نہ کرے تو اس نے مجھ پر ظلم کیا"۔ جو لوگ کہ ساکن مکہ معظمہ کے ہیں اور نفل حج کے بعد روضہ اقدس کی زیارت نہ کریں تو اس حدیث کے مصداق ہیں یا نہیں ؟
الجواب:
من حجّ(جس نے بھی حج کیا۔ت) یقینا عام ہے مکّی وآفاقی سب کو شامل اور تکرارِ سبب تکرارِ حکم کو مستلزم، اور لم یزرنی(میری زیارت نہ کی۔ت) کے صدق کو ترك کلی کی طرف مشیر ماننا خلاف اصل متبادر، نظرِ ایمانی میں بلاشبہ ہربار زیارت لازم، اور اسی پر مسلمین کا عمل لاجرم، فاکہی مکی متوفی٩٨٢ھ کتاب حسن التوسّل فی زیارۃ افضل الرسل صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم میں فرماتے ہیں:
|
الما موربہ اذاکان مرتبا علی سبب یتکرر طلبہ من المکلف بتکرر السبب، فمن ذٰلك اجابۃ المؤذن فتطلب الاجابۃ، علی ماقالہ جمع کلما وجد الاذان و یتکرر،ومنہ فیما یظھر الزیارۃ للمستطیع کلماحج، بناء علی مقتضی ھذا الخبر ونحوہ فیتأ کد علٰی نحو المکی اکثر من تاکدہ علٰی غیرہ ان لایفوت الزیارۃ بعد حجہ لاسیما فی عام حجہ فان قرب الدار یصیر القریب کالجار والجار التارك للمزار قد جار ،سیما اذا کان یر تکب الدیون فی تحصیل شھوتہ، وعدم قطع عادتہ ولا یرتکبھا فیما ھو اشرف عباداتہ اھ١[1] |
جب مامور بہ کسی ایسے سبب پر مترتب ہو جس میں تکرار ہے تو سبب کے تکرار پر مکلّف سے ماموربہ کے مطالبہ کا بھی تکرار ہوگا، مؤذن کی دعوتِ نماز کو قبول کرنا بھی اسی قبیل سے ہے، تو جب بھی اذان کاتکرار ہوگا اجابت کا مطالبہ ہوگا جیسا کہ ایك جماعت کا قول ہے اس سے یہ واضح ہوجاتاہے کہ صاحبِ استطاعت جب بھی حج کرے اس اور دیگر فرمان نبوی کی بنا پر، دربار نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں حاضری دے، غیر مکی لوگوں کی نسبت مکی لوگوں کو اس کی زیادہ تاکید ہے کہ حج کے بعد خصوصًا حج کی ادائیگی کے سال، زیارت کیلئے حاضری کو فوت نہ کرے کیونکہ قربِ دار، قریبی کو پڑوسی بنادیتا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع