30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لایرید النفرکذاروی الحسن عن ابی حنیفۃ[1]۔ |
جائز نہیں جو لوٹنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔ امام حسن نے امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲتعالیٰ سے یوں ہی نقل کیا ہے۔(ت) |
اسی کی فصل شرائط رمی میں ہے:
|
الخامس ان یرمی بنفسہ فلا تجوزالنیابۃ عند القدرۃ تجوز عند العذر، فلورمی عن مریض لا یستطیع الرمی بامرہ اومغمٰی علیہ ولوبغیر امرہ او صبی غیر ممیزاومجنون جاز، والا فضل ان توضع الحصی فی اکفھم فیرمونھا ای رفقاؤھم ففی الحاوی عن المنتقی عن محمد ، اذاکان المریض بحیث یصلی جالسارمی عنہ ولاشئی علیہ اھ ولعل وجہہ انہ اذاکان یصلی قائما فلہ القدرۃ علی حضور المرمی راکبا اومحمولا فلایجوز النیابہ عنہ٢[2] اھ ملخصات واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
پانچویں شرط یہ ہے کہ خود رمی کرے قدرت کے باوجود نائب بنانا درست نہیں ، ہاں عذر کے وقت جائز ہے ،اگر کسی نے ایسے مریض کے کہنے پر رمی کی جو طاقت نہیں رکھتا، یا حاجی پر غشی طاری تھی اگر چہ اس نے رمی کا نہ کہا ہو، یا جس بچے کو شعور نہ ہو اس کی طرف سے یادیوانے کی طرف سے رمی کردی تو جائز ہوگی ۔ افضل یہ ہے کہ سنگریزے معذوروں کے ہاتھوں میں رکھ دئے جائیں توان کے رفیق رمی کریں۔ حاوی میں المنتقی سے امام محمد سے مروی ہے جب مریض اس حال میں ہو کہ صرف بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہوتو اس کی طرف سے کسی نے رمی کردی تو اس پر کوئی شئے لازم نہ ہوگی اھ شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ جب وُہ نمازکھڑے ہوکر ادا کرسکتاہوتو اب اس کے لیے رمی کے لیے جانے کی قدرت ہوگی خواہ سوار ہوکر جائے یا اسے اٹھاکر لے جایاجائے اب اس کی طرف سے نائب بنانا درست نہ ہوگا اھ ملخصا واﷲتعالٰی اعلم (ت) |
مسئلہ ٢٩٣: ازشہر بریلی مسئولہ حضرت ستنا بی بی صاحبہ مدظلہا
حج میں ایك اونٹ آٹھ آدمیوں نے شریك ہوکر قربانی کی تو حج ہوایا نہیں اور قربانی دوبارہ کرے یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
حج ہوگیا پھر احرام باندھتے وقت تنہا حج کی نیت باندھی تھی تو قربانی اصلًا ضرور نہ تھی نہ اب اس کے بدلے کسی چیز کی حاجت ہے، ہاں اگر احرام میں حج اور عمرہ دونوں کی نیت ایك ساتھ باندھی تھی یا احرام میں فقط
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع