30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یا ایك ہی شخص جوان کے نزدیك ذی وجاہت ہو مجبور کریں تو ان کو ماننا پڑتا ہے ، فقیر کو اس کا تجربہ ہے اور اگر نہ مانیں اور مجبوری ہوتو نویں رات منٰی میں صبح تك ٹھہرنا اور آفتا ب چمکنے پر عرفات کو چلنا سنت ہے مجبورانہ اس کے ترك سے حج میں کوئی نقص نہ آئے گا مزدلفہ کی حدود کے اندر دسویں تاریخ کے طلوع صبح صادق سے طلوع آفتاب تك کسی طرح موجود ہونا اگر چہ ایك لحظہ ہوا دائے واجب کے لیے کافی ہے تو اگر حدود مزدلفہ سے نکل جانے سے پہلے صبح صادق ہوگئی توواجب ادا ہوگیا اگر چہ سنت ترك ہوگئی ، ہاں اگر اتنی رات سے چل دیا کہ صبح صادق نہ ہونے پائی اور مزدلفہ کی حدود سے نکل گیا تو بے شك واجب ترك ہوا، قربانی دینی آئے گی مگر بدوی ایسا نہیں کرتے اور عورتوں اور نہایت کمزور مردوں اوربیماروں کو بخوف ہجوم خود شرع بھی رات سے چل دینے کی اجازت فرماتی ہے، انہیں کوئی جرمانہ دینا نہ ہوگا، بارہویں تاریخ قبل زوال چل دینے کی ضرور اب وہاں عادت نکالی ہے، اور یہ ہمارے مذہب وظاہر الروایۃ میں گناہ ہے، فقیر نے تو جمالوں کو مجبور کیا اور بحمد ﷲ ان کو رکنا پڑا کہ میں اور میرے ساتھ کے سب مردوعورت بعد زوال رمی کرکے روانہ ہوئے جہاں وہ ہر گز نہ مانیں اور پیچھے رہ جانے میں اندیشہ صحیح ہوتو یہ صورت مجبوری کی ہے، ضعیف روایت پر عمل کرکے قبل زوال رمی کرکے جاسکتا ہے، عورت ہونا رمی میں نیابت کے لیے عذر نہیں، ہاں ایسا بیمار ہوکہ رمی کو نہ جاسکے تو اس سے اجازت لے کر دوسر ا اس کی طرف سے رمی کرسکتا ہے یا جو غشی میں ہوتو اسکی بلااجازت اسکی طرف سے رمی ہوسکتی ہے،لباب وشرح لباب سنن حج میں ہے:
|
والخروج من مکۃ الی عرفۃ یوم الترویۃ والبیوتۃ بمنی لیلۃ عرفۃ الالحادث من الضروریات والدفع منہ الٰی عرفۃ بعد طلوع الشمس ١[1]۔ |
یوم ترویہ کو مکہ سے عرفات کی طرف حاجی نکلے اور عرفہ کی رات منٰی میں بسر کرے بشرطیکہ کوئی مانع اور مجبوری نہ ہو اور پھر منٰی سے طلوعِ آفتا ب کے بعد عرفات جائے۔(ت) |
اسی کی فصل الرواح الیٰ منٰی میں ہے:
|
وان بات بغیر منی تلك اللیلۃ جاز و اساء[2]۔ |
اگر منٰی کے علاوہ کسی اور جگہ حاجی نے یہ رات بسر کی توجائز مگر خلافِ ادب ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع