30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الدرالمختار من شاء الاحرام توضأ وغسلہ احب، وھو للنظافۃ لالطہارۃ فالتیمم لہ عند العجز من الماء لیس بمشروع لانہ تلوث اھ١ [1]ای فی بعض الصور حیث یصیب الغبار والافمن تیمم علی مرمر مغسول جاز ولم یکن تلوثا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
درمختار میں ہے جس نے احرام کا ارادہ کیا وہ وضو کرے، غسل اس کے لیے افضل ہے اور یہ بات نظافت کے پیش نظر ہے طہارت کے لیے نہیں، اگر محرم کے پاس پانی نہیں تو وضو کی جگہ تیمم نہ کرے کیونکہ یہ تو مٹی میں ملوث ہونا ہے اھ یعنی یہ تلوث ان صورتوں میں لازم آتا ہے جہاں غبار ہو، اگر دھوئے ہوئے سنگِ مرمر پر تیمم کیا تو جائز ہوگا کیونکہ اب تلوث کا خطرہ نہیں۔ واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ٢٩٢:از بمبئی محلہ قصاباں متصل کرافٹ مارکیٹ مکان گورے بابو صاحب مسئولہ حضرت سید حامد حسین میاں صاحب دام ظلہم ٤ذیقعدہ١٣٢٩ھ
معظمی مکرمی مدظلہ العالی السلام علیکم ورحمۃاﷲوبرکاتہ،، حجاج قطعی معلم وبدویان کے قبضہ میں ہوتے ہیں اکثر، ۷ ذی الحجہ کو روانہ ہوکر منٰی میں قیام کرتے ہیں اور شب ِنہم منی شریف سے روانہ ہوکر صبح پہنچتے ہیں اور مزدلفہ سے بھی پچھلی شب میں روانہ ہوجاتے ہیں، آپ حضرات بدویان کی سخت مزاجی سے خوب واقف ہیں وہ کسی کا کہا نہیں سنتے، کیا کیا جائے بجز اس کے کہ آپ دعا فرمادیں کہ بدویان انہیں اوقات میں روزانہ ہوں جن کی بابت حکم ہے، فقیر کوشش بلیغ کرے گا بشرطیکہ دیگر حجاج نے میرے کلام کی تائید کی، اگر فقیر تنہا ہوتا تو کچھ قافلہ کی ہمراہی کی پروانہ کرتا اور پورے طورپر حسب تحریر رسالہ، اوقات معینہ کی پابندی کرتا اور اب بھی ان شاء اﷲ حتی المقدور پابندی کرےگا، اﷲتعالیٰ میری امداد فرمائے ، آمین ثم آمین!
دوم یہ کہ عورت معذور اور غیرمعذور کی جانب سے وکالۃً ہر سہ یوم رمی جائز ہے یا نہیں، کیونکہ علاوہ مجمع بارہویں تاریخ قبل دوپہر قافلہ روانہ ہوتا ہے میں تنہا رہ جاؤں گا، بعد زوال رمی کرکے قافلہ سے آملوں گا، والسلام
الجواب:
بشرف ملاحظہ عالیہ بابرکت والا درجت حضرت مولانا سیّد حامد حسین میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم، السلام علیکم ورحمۃ اﷲوبرکاتہ۔ بعد ادائے آداب معروض ، مطوفون کو اگر اہل قافلہ مل کر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع