30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(١) مستطیع شخص جواپنا فرض ادا کرچکا کسی دوسرے کی طرف سے حج بدل کرسکتا ہے یا نہیں؟
(٢) غیرمستطیع جس پر حج فرض نہیں ہے حج بدل کے واسطے مقرر ہوسکتا ہے یا نہیں؟
(٣) بہر کیف حج بدل کرنے والے کو خاص مکہ معظمہ میں
وہاں کا زمانہ حج کا خرچ دے کر مقرر کرلینا کافی ہے یانہیں؟
(٤) حج بدل کرنے والا شخص مبدل منہ کے مقام قیام کے قریب باش لیا جائے اور
آمدورفت کا تمام خرچ اس کو دیا جائے تویہ افضل ہوگا یا صرف بمبئی یا خاص مکہ معظمہ
میں حج تك مقرر کرلیا جائے؟ وبینو ابحو الۃالکتاب توجروا عند اﷲ الوھاب(کتاب کے حوالے سے بیان کیجئے اﷲ وہاب سے اجر پائیے
۔ت)
الجواب:
(١) کرسکتا ہے واﷲتعالٰی اعلم۔
(٢) اس میں اختلاف ہے اور بہتر احتراز واﷲتعالٰی اعلم۔
(٣) اس قسم کے حج بدل جو کرائے جاتے ہیں اُن سے فرض تو اُتر سکتا نہیں،حج عبادت بدنی اور مالی دونوں سے مرکب ہے، جس پر حج فرض تھا اور معاذاﷲ بے کئے مرگیا ظاہر ہے کہ بدنی حصہ سے تو عاجز ہوگیا رب عزوجل کی رحمت کہ صرف مالی حصّہ سے اس کی طرف سے حج بدل قبول فرماتا ہے جبکہ وہ وصیت کرجائے اور رحمت پر رحمت یہ کہ وارث کا حج کرانا بھی قبول فرمایاجاتا ہے اگر چہ میّت نے وصیت نہ کی، حج بدل والے کو اسی شہر سے جانا چاہئے جو شہر میت کا تھا تاکہ مالی صرف پوراہو، مکہ معظمہ سے حج کرادینا اس میں داخل نہیں، رہا ثواب اس کی امید بھی بخیر ہے، حج کرانے والے صاحب اس پر اجرت لیتے ہیں اور جب اجرت لی ثواب کہاں، اور جب انہیں کوثواب نہ ملا میت کو کیا پہنچائیں گے، خصوصًا بعض متہور یہ ظلم کرتے ہیں کہ چار چار شخصوں سے حج بدل کے روپے لے لیتے ہیں، اﷲتعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت فرمائے واﷲتعالٰی اعلم۔
(٤) اس کا جواب اوپر آچکا اورخرچ آمد ورفت دونوں دیاجائے واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ٢٨٩: از میرٹھ ڈاك خانہ بہادر گڑھ مسئولہ محمد صادق صاحب ٢٢محرم الحرام ١٣٣٩ھ
علماءِ عظام وکرام! اس مسئلہ میں کیا ارشاد ہوتا ہے کہ کوئی شخص حج بدل کو گیا اور حج کرنے والے نے چالیس روپے اس کے بال بچوں کے خرچ کے واسطے چار ماہ کے لیے دیے اور پچاس روپے اس کو خرچ کے واسطے مکہ معظمہ تك دیے اور کہا کہ باقی خرچ مکہ معظمہ جاکر دے دوں گا، اورٹکٹ جہاز کا حج
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع