30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعد احجاج زائل بھی ہوجائےاعادہ ضرور نہیں۔
(٤) حجِ بدل کرنے والا تنہا ایك محجوج عنہ کی طرف سے حج واحد کی نیت کرے مثلًا احرمت عن فلان یا اللھم لبیك عن فلان[1] اگر اس کی طرف سے نیت نہ کی یا دو حج کی نیت کی ایك اس کی طرف سے ایك اپنی طرف سے یادو شخصوں کی طرف سے نیت کی ایك اس کی جانب ایك منیب آخر کی جانب سے، تو کافی نہ ہوگا۔
(۵) یہ حج بامر محجوج عنہ ہو بلا اجازت دوسرے کی طرف سے حج کافی نہ ہوگا مگر جبکہ وارث اپنے مورث کی طرف سے حج کرے یا کرائے لقیامہ مقامہ خلافۃ۔
(٦) مصارفِ آمد و رفت وسائر نفقہ حج کل یا اکثر مال محجوج عنہ سے ہوں۔
(٧) حج اگر بحیات محجوج عنہ ہو توجسے اس نے امر کیا وہی حج کرے، وُہ دوسرے سے کرادے گا تو ادا نہ ہوگا اور اگر بعد وفات محجوج عنہ ہے تو مامور دوسرے کو بھی اپنی جگہ قائم کرسکتا ہے اگر چہ میت نے اس کا نام لے کروصیت کی ہوکہ فلاں میری طرف سے حج کرے، ہاں اگر صراحۃً اس نے نہی کردی تھی کہ وہی کرے، نہ دوسرا، تواب دوسرا کافی نہیں۔
(٨) حجِ بدل کرنے والا اکثر راستہ سواری پر طے کرے اگر باوصف گنجائش نفقہ پیادہ حج کرےگا نفقہ واپس دے دے گا اور حج اس کی طرف سے نہ ہوگا۔
(٩) محجوج عنہ جب اہل آفاق سے ہو تو لازم ہے کہ اس کی طرف سے حج آفاقی کیا جائے اگر اس نے حج کو بھیجا اس نے عمرہ کا احرام باندھا بعد عمرہ مکہ معظمہ سے احرام حج باندھا اس کی طرف سے حج نہ ہوگا کہ یہ حج مکی ہوانہ آفاقی ، ہاں اگر قریب حج میقات کی طرف نکل کر احرامِ حج میقات سے باندھے تو جائز ہے کہ حج آفاقی ہوا نہ مکّی۔
(١٠) مخالفت نہ کرے مـثلًا تنہا حج کے لیے امر کیا تھا اس نے قران یا تمتع کیا نفقہ واپس دے گا اور حج اس کی طرف سے نہ ہوگا۔
(١١) حجِ بدل کرنے والا حج صحیح اس دفعہ میں ادا کرے، ناعاقل بچّے یا مجنون کا حج کافی نہیں، ہاں مراہق کا کافی ہے، یونہی اگر وُہ حج فاسد کردیا کافی نہ ہوگا اگر چہ قضا بھی کرے۔ بیس ٢٠ شرطیں منسك متقسط میں ہیں انہیں گیارہ میں آگئیں۔ واﷲتعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع