30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(٢) والدین پر قرضہ قلیل اور حقیقتِ زمینداری اس سے کہیں زیادہ قیمت کی ہے۔
(٣) زید مذکور کی اہلیہ نیز عیال اطفال سے کوئی نہیں ہے۔
الجواب:
جبکہ زید اپنے ذاتی روپے سے استطاعت رکھتا ہے تو حج اس پر فرض ہے،اور حجِ فرض میں والدین کی اجازت درکار نہیں بلکہ والدین کو ممانعت کا اختیار نہیں، زید پر لازم ہے کہ حج کو چلا جائے اگر چہ والدین مانع ہوں، والدین پر قرض ہونا اس شخص پر فرضیّت میں خلل انداز نہیں۔ واﷲتعالیٰ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ٢٨١: از شہر کہنہ مسئولہ سیّد محمد نوراﷲصاحب اشرفی جیلانی محرر دار الافتائے اہلسنت بریلی ٨ذی الحجہ ١٣٢٣ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کو بوجہ ہونے امکان حج کے جب کبھی حج کی ترغیب دی تو کہتا ہے کہ ہم نے حاجیوں کی اکثر مدد کی ہے پس ہم پر حج کرنا فرض نہیں ہے، اور کسی عالم کا قول نہیں مانتا، پس کیا اس سے حج شرعًا ساقط ہے؟
الجواب:
یہ کلمہ کفر ہے، حاجیوں کی مدد کرنے سے حج ساقط نہیں ہوسکتا ، اس شخص پر توبہ وتجدید اسلام فرض ہے، تجدیدِ نکاح وتجدیدِ اسلام کرے۔ واﷲتعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ٢٨٢: از بدایوں مولوی محلہ مکان عطا احمد صاحب از طرف اہلیہ شاہ ابو الحسین صاحب مرحوم ومغفور ٧رمضان ١٣٢٩ھ
حضرت جناب مولانا صاحب ! بعد سلام سنت واضح ہو مجھ کو سخت ضرورت وانتشار برائے دریافت ایك امر واقع ہوگیا وُہ یہ ہے کہ میں اس سال جو حجِ بیت اﷲکو جاتی ہوں تو بارادہ حجِ بدل اپنے پیر و مرشد جناب نانا صاحب حضرت شاہ آلِ رسول رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے جاتی ہوں مارہرہ آکر ایك امر جدید دریافت ہوا کہ جس سے آج اور اب تك بے خبر محض تھی، وُہ امر یہ ہے کہ جناب مرحومہ مغفورہ والدہ صاحبہ جو بیت اﷲتشریف لے گئی تھیں وہاں جاکر ان کو مرض الموت پیدا ہوا اور بتاریخ آٹھویں ذی الحجہ مقامِ منٰی پہنچ کر انتقال ہوگیا اور حج نہیں ہوا، تو مجھ پر اب حجِ والدہ مغفورہ لازمی ہوگیا، چونکہ میں اپنے ہمراہ بوجہ محرمیت برادر زادہ کو لیے جاتی ہوں جس کی عمر ١٩ سال کی ہے اور اوّل مرتبہ یہ برادر زادہ بیت اﷲجاتا ہے تو دریافت طلب آپ سے یہ امر ہے کہ میں اس بچّہ سے حجِ والدہ مغفورہ کرادوں اور خود حج بعوض پیر وشد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع