30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٢٧٣: از بنارس محلہ مانپور متصل کول چونرہ اونچی سیڑھی مرسلہ عبد الستار ١٥شوال١٣١٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ مین کہ ٢٧تاریخ ماہ رجب کی، روزہ رکھنا چاہئے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب:
بیہقی شعب الایمان اور دیلمی نے مسند الفردوس میں سلمان فارسی رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مرفوعًا روایت کی:
|
فی رجب یوم ولیلۃ من صام ذٰلك الیوم وقام تلك اللیلۃ کان کمن صام من الدھر مائۃ سنۃ وقام مائۃ سنۃ وھو لثلث بقین من رجب وفیہ بعث اﷲ تعالٰی محمد اصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلّم[1]۔ |
رجب میں ایك دن اور رات ہے جو اس دن کا روزہ رکھے اور وُہ رات نوافل میں گزارے سَوبرس کے روزوں اور سَوبرس کے شب بیداری کے برابر ہو، اور وہ ٢٧رجب ہے اسی تاریخ اﷲ عزوجل نے محمد صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ۔ |
قال البیہقی منکر [2]( امام بیہقی نے اس روایت کو منکر کہا ہے۔ت) نیز اسی میں بطریق ابان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع