30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
منسلخ فیھا عن معنی الظرفیۃ کالحکم والاعتقاد کقولك ھذا عند ابی حنیفۃ والفضل والاحسان کقولہ تعالٰی فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنۡدِکَ ۚ [1]وغیرہ ذٰلك کما ذکرہ الحریری فی درۃ الغواص لیس ھذامقام تفصیلھا۔ |
بھی ہیں جو معنی ظرفیت کے علاوہ ہیں، مثلًا حکم اور اعتقاد جیساکہا جائے یہ امام ابو حنیفہ کا قول ہے یا بمعنی فضل واحسان کے"مثلًاـ"اﷲتعالیٰ کا مبارك فرمان ہے پس اگر آپ دس مکمل کریں تو تمہارا احسان ہے، ان کے علاوہ دیگر معانی بھی ہیں جنہیں حریری نے درۃ الغواص میں ذکر کیا ہے لیکن یہ مقامِ تفصیل نہیں(ت) |
معانی از قبیل ثانیاا ور افطار منجملہ معانی تو اس مراد وہی قرب زمانی ، ہرذی عقل جانتا ہے کہ عند الافطار کے معنی حین الافطار ہیں نہ کہ فی مکان الافطار، ای مکان کان فیہ المفطرحین افطر والا فالافطار لیس مما یحل فی المکان(افطار کے وقت جہاں افطار کرنے والاہو، ورنہ افطار خود مکان میں حلول نہیں کرتا۔ت)کیا آج اگر کسی شخص نے ایك جگہ روزہ افطار کیا اور چھ٦مہینے بعد آکر اس جگہ پر دُعاءِ مذکور پڑھ لے یا چار پہر تك وہیں بیٹھا رہا صبح کو دُعا پڑھے تو یقول عند الافطار (افطار کے وقت کہے ۔ت)کاحکم ادا ہوگیا کہ آخر مکان تو وہی ہے، لاجرم ماننا پڑے گا کہ یہاں عند سے اتحاد زمان ہی مفاد اور اتحاد سے وہی تعقیب متصل مراد، یہ سب واضحاتِ جلیلہ ہیں جن کی اضاحت گویا وقت کی اضاعت، مگر کیا کیجئے کہ بعد وہم واہم و ورود سوال حاجتِ ازاحت۔
ان تقریرات سے بحمد اﷲتعالیٰ تمام سوالوں کا جواب ہوگیا اور روشن طور پر منجلی ہُوا کہ مقتضائے سنّت یہی ہے کہ بعد غروب جو خُرمے یا پانی وغیرہ از قبل نماز افطار معجل کرتے ہیں اُس میں اور علم بغروب شمس میں اصلًافصل نہ چاہئے یہ دُعائیں اس کے بعد ہوں، ہاں کبھی افطار مقابلِ سحور اس کھانے کو کہتے ہیں جو صائم شام کو کھاتا ہے۔
|
ابن خزیمۃ فی صحیحہ ومن طریقہ البیہقی وابو الشیخ بن حبان فی الثواب عن سلمان الفارسی رضی اﷲ تعالٰی عنہ یرفعہ الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی فضائل شھر رمضان، قال من فطرفیہ صائما کان مغفرۃ لذنوبہ وعتق رقبتہ |
ابن خزیمہ نے صحیح میں، اور اسی طریق سے بیہقی نے اور ابوالشیخ بن حبان نے الثواب میں حضرت سلمان فارسی رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے فضائلِ رمضان کے بارے مرفوعًا بیان کیا کہ رسول ا ﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جس نے کسی کا روزہ افطار کروایااس کے گناہ معاف اور اس کی گردن جہنم سے آزاد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع