30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الترمذی وحسنہ وابنا خزیمۃ وحبّان فی صحیحہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن ربہ تعالٰی وتقدس۔ |
امام احمد اور ترمذی نے حسن کہا۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں حضرت ابوھریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے نقل کیا اُنہوں نے نبی اکرم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے اور آپ نے اﷲتبارك وتعالیٰ سے ذکر کیا، یعنی یہ حدیث قدسی ہے۔ت) |
شك نہیں کہ صورتِ مذکورہ میں زید کا افطار جلد تر ہو اتو یہی طریقہ زیادہ پسند ومرضی ربّ اکبر ہُوا جلّ جلالہ، وعمّ نوالہ، یہ دوسرا مؤید ہے اس کا کہ وقت الافطار وبعد الافطار کا مآل واحد ہے کہ جب افطار غروب شمس کے بعد جلد ہو تو احب وافضل ،اور مقارنت افطار ودُعا،نا متیسر اور پیش ازغروب ،وقت افطار معدوم، تو وہ صورت بعدیت متصلہ ہی مقصود ومفہوم۔
خامسًا فعل اقدس حضور پُرنور سید المرسلین صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم بتانے والے بھی اسی کا انکار کرتے ہیں ، عادتِ کریمہ تھی کہ قریب کسی کو حکم فرماتے کہ بلندی پر جا کر آفتاب کو دیکھتا رہے، وہ نظر کرتا ہوتا اور حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اس کی خبر کے منتظر ہوتے، اُدھر اُس نے عرض کی کہ سُورج ڈوبا ادھر حضور والا صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے خُرما وغیرہ تناول فرمایا،
|
الحاکم وصححہ عن سھل بن سعد و الطبرانی فی الکبیر عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنھما وھذا حدیث سھل قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا کان صائما امررجلا اوفی علی نشز فاذاقال غابت الشمس افطر[1]ولفظ حدیث ابی الدرراء امر رجلا یقوم علٰی نشز من الارض فاذا قال قد وجبت الشمس افطر[2]،
|
حاکم نے حضرت سہل بن سعد رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے نقل کرکے صحیح کہا اور طبرانی نے الکبیر میں حضرت ابودرداء رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ حدیث سہل کے الفاظ یہ ہیں: رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم جب روزہ دار ہوتے تو کسی شخص کو بلند جگہ پر جاکر چاند دیکھنے کا حکم فرماتے ، جب وُہ کہتا سورج ڈوب گیا ہے، تو پھر افطار فرماتے،حدیث ابو الدرداء کے الفاظ یہ ہیں کسی شخص کو حکم دیتے زمین کے اونچے مقام پر کھڑے ہوکر سُورج دیکھو جب وہ کہتا سورج ڈوب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع