30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ، اماھٰھنا فحمل" افطر" علی الارادۃ، عدول عن الحقیقۃ من دون حاجۃ تحمل علیہ ولا صارف یدعوالیہ، فلایفعل ولا یقبل ۔ |
بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے لیکن مذکورہ صورت میں لفظ افطرکو ارادہ افطار پر محمول کرنا بے ضرورت حقیقت سے اعراض ہے اور یہاں کوئی مجاز پر قرینہ بھی نہیں، لہذا ایسا نہ کیا جائے اور نہ اسے قبول کیا جائے۔(ت) |
ثانیًا ان ادعیہ میں افطرت(میں نے افطار کیا)اور افطرنا(ہم نے افطارکیا)،ذھب الظمأ(پیاس چلی گئی)ابتلت العروق(رگیں تر ہوگئیں)سب صیغے ماضی ہیں اور افطار باللفظ متصوّر نہیں کہ مثل عقود انشاء مقصود لاجرم اخبار متعین ،تو تقدیم علی الافطار میں یہ سب بھی ارتکاب تجوز کے محتاج ہوں گے کہ خلافِ اصل ہے والنصوص یجب حملھا علی ظواہر ھا مالم تمس حاجۃ واین حاجۃ(جب تك کوئی مجبوری نہ ہو نصوص کو ظاہرپر ہی محمول کرنا چاہئے اور یہاں کوئی ضرورت ومجبوری نہیں۔ت)یہاں سے بھی ظاہر ہوا کہ ترجمہ حضرت شیخ محقق نوراﷲمرقدہ الشریف ہی صحیح ہے اور"افطار کرتا ہوں"بلاوجہ حقیقت سے عدول۔طرفہ یہ کہ اب بھی حاجت تجوز باقی۔
|
لما قدمنا من امتناع المقارنۃ فلا بد من تاویل الحال بالاستقبال والافطار بالارادۃ۔ |
کیونکہ ہم نے پہلے بیان کردیا کہ یہاں مقارنت و اتصال ممتنع ہے لہذا حال کو بمعنی استقبال اور افطار بمعنی ارادہ افطار کیاجائے گا۔(ت) |
ثالثًا مرسل ابن السنی وبیہقی میں لفظ الحمدﷲ اور مؤید تا خیر کہ حمد بعداکل معہود ہے جس طرح
قبلِ اکل تسمیہ۔
رابعًا یہ تو ظاہر ہے اور شاید مدعیِ تقدیم کو بھی مسلّم ہوکہ یہ دُعائیں
دن میں پڑھ لینے کی نہیں کہ ہنوز وقتِ افطار بھی نہ آیا، اب اگر عمرو بعد غروب شمس
یہ دُعائیں پڑھ کر افطار کرے اور زید بعد غروب فورًا افطار کرکے پڑھے تو دیکھنا
چاہئے کہ اس میں کس کا فعل اﷲ عزو جل کو زیادہ محبوب ہے، حدیث شاہدعادل ہے کہ فعل
زید زیادہ پسند حضرت جلا وعلا ہے کہ رب العزت تبارك وتعالیٰ فرماتا ہے:
|
ان احبّ عبادی الیّ اعجلھم فطرا[1]، رواہ الامام احمد و |
مجھے اپنے بندوں میں وُہ زیادہ پیارا ہے جو اُن میں سب سے زیادہ جلد افطار کرتا ہے(اسے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع