30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ودروقتِ افطار فرمودے اللھم بك صمت [1]الخ انتہی۔
|
حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم افطار کے وقت فرماتے اے اﷲ! میں نے تیرے لیے رکھا الخ انتہی(ت) |
اور اُنہیں کی اشعۃ اللمعات میں حدیث معاذ بن زہرہ کے ترجمہ میں ہے:
|
بود آنحضرت چوں افطارمی کردمی گفت اللھم لك صمت خداوند برائے رضائے تو روزہ داشتہ ام وعلیٰ رزقك افطرت وبر روزی توکہ رسانیدی می کشادم روزہ را[2]انتہی۔ |
حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم جب افطار کرتے، فرماتے اللھم لك صمت اے اﷲ! میں نے تیری رضا کیلئے روزہ رکھا وعلیٰ رزقك افطرت اور تیرے عطا کردہ رزق پر روزہ افطار کیا انتہی(ت) |
اور بعض کہتے کہ اس دعا کو بعد افطار کہے۔ چنانچہ مظاہر حق ترجمہ اردو مشکٰوۃ مؤلفہ جناب مولوی قطب الدین مرحوم دہلوی میں ہے: ابن ملك نے کہا ہے کہ حضرت(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)ان کلمات(یعنی اللھم لك صمت الخ)کو بعد افطار کہتے تھے[3]انتہی۔ تو ان قولوں میں صحیح قول کون سا ہے؟ اور نیز اس میں کہ وقت افطار سے مراد قبل از افطار ہے اور پہلے قول اور اس قول کا مآل واحد ہے یا بعد افطار اور پچھلے قول اور اس قول کا مآل واحد ہے اور نیز اس میں کہ لفظ افطرت کا ترجمہ"افطار کرتا ہوں میں"جیسا کہ مؤلف نورالہدایہ ترجمہ اردوشرح وقایہ نے کیا ہے صحیح ہے یا"افطار کیا میں نے"جیسا کہ شیخ قدس سرہ نے اشعۃ اللمعات میں کیا ہے صحیح ہے؟ اور نیز اس میں کہ بر تقدیر صحت ترجمہ ثانی کے اس دُعا کا بعد افطار ہونا ثابت ہوگا یا نہیں؟ اور نیز اس میں کہ زید تو کہتا ہے کہ حدیث کے لفظ اذاافطرت قال اللھم لك صمت الخ(جب افطار کرتے تو فرماتے اے اﷲ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھاالخ۔ت)میں اذا حرفِ شرط ہے، افطر جملہ فعلیہ شرط ہے، قال اپنے فاعل ضمیر مستتر اور اللھم لك الخ مقولہ کے ساتھ جزا ہے۔ اور عمرو کہتا ہے اذا حرفِ شرط، افطر شرط، اور فقد قال جزا۔ بس یہ کلام تو تمام ہوچکا اب اللھم لك صمت برأسہ اور نیز ایك دوسرا کلام ہے قال سے اس کو کچھ تعلق نہیں تو دونوں میں صحیح قول کس کا ہےـ؟ اور نیز اس میں زید توکہتا ہے کہ اللھم لك صمت الخ دُعا ہے اور عمرو کہتا ہے نہیں، کیونکہ دُعا تو وُہ کلام ہوتا ہے جو کہ متضمن مضمون طلب ہو، اور یہ ایسا نہیں تو دُعا بھی نہیں، تو دونوں میں صحیح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع