30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
انہ بلغہ ان النبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کان اذا افطر اللھم لك صمت وعلی رزقک[1] فحمل افطر علی معنی ارادۃ الافطار وصرف عن الحقیقۃ من دون حاجۃ الیہ وذالایجوز وھکذا فی افطرت۔ |
کہ رسالتمآب صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم افطار کے وقت یہ دُعا پڑھتے:"اے اﷲ! میں نے تیری رضا کی خاطر روزہ رکھا، تیرے رزق پر افطار کیا"تو یہاں افطر سے مراد ارادہ افطارلینا اور حقیقی معنی سے بے ضرورت اعراض کرنا ہے حالانکہ یہ جائز نہیں اور اسی طرح کا معاملہ"افطرت"میں ہے(ت) |
مولانا علی قاری علیہ الباری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
|
(کان اذاافطر قال)ای دعا وقال ابن الملك ای قرأبعد الافطار [2] الخ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ |
(جب افطار کرتے تو کہتے)یعنی دُعا کرتے ابن الملك نے کہا کہ افطار کے بعد یہ دُعا پڑھتے تھے الخ۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
_________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع