30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ اُسی کی طرح احکامِ شرعیہ سے یکسر ساقط والی بعض ھذا اونحومنہ اومأالتبیین(اس کے بعض یاا س کے مثل کی طرف تبیین میں اشارہ ہے۔ت)
ثمّ اقول:(پھر میں کہتا ہوں۔ت)صبح صادق کے لیے ١٥ درجے انحطاط ہونے کا بطلان اور ١٨درجے انحطاط کی صحت، اس واقعہ مشہورہ سے بھی ثابت ہے جو فتح القدیر وبحرالرائق و درمختار میں وعامہ کتب معتبرہ میں مذکور کہ بلغار سے ہمارے مشائخ کرام کے حضور استفتاء آیاتھا کہ گرمیوں کی چھوٹی راتوں میں ان کو وقت عشاء نہیں ملتا آدھی رات تك شفق ابیض رہتی ہے اور وُہ ابھی نہ ڈوبی کہ مشرق سے صبح صادق طلوع کر آئی، امام برہان الدین کبیر نے حکم دیا کہ عشاء کی قضاء پڑھیں اور امام بقالی وامام شمس الائمہ حلوانی وغیرہما نے فرمایا اُن پر سے عشاء ساقط ہے [1]۔ بالجملہ اُن راتوں میں وہاں وقت عشا نہ پانا متفق علیہ ہے، اب اگر انحطاطِ صبح صادق ١٥درجے ہوتا تو سال کی سب سے چھوٹی رات یعنی شب تحویل سرطان میں بھی اُن کو وقت عشا ملتا ایك رات بھی فوت نہ ہوتا نہ کہ راتوں، اس پر دلیل سُنئے، بلغار کا عرض شمالی ساڑھے انچاس درجے ہے کما فی الزیج السمر قندی ثم الزیج الالوغ بیکی(جیسا کہ سمر قندی اور الوغ بیگی زیج میں ہے۔ت)اورمیل کلی یعنی راس السرطان کا میل اُس زمانے میں٢٣-١/٢درجے سے کچھ زائد تھا کہ اس کی مقدار زمانہ رصد سمر قند میں جسے تقریبًا پانسوبرس عــــہ۱ ہُوئے لح ل ء تھی یعنی ٢٣-١/٢ درجے سے ١٧ ثانیہ زیادہ تو زمانہ امام شمس الائمہ حلوانی میں جسے پونے نو سوبرس عــــہ۲ گزرے اور بھی زائد ہوگا اور طوسی کا رصد مراغہ لیجئے تو وُہ اپنے ہی زمانہ میں الح لہ کارہا ہے یعنی ٢٣درجے ٣٥ دقیقے، خیر اس کی نہ سُنیے اُس پر تجربہ ہوا ہے کہ اعمال میں کچا ہے، تو بلحاظِ تناسب کہ اب الح الر یعنی ٢٣ درجے ۲۷ دقیقے معہ کسر خفیف ہے اُس وقت کا میل الح لح بالرفع رکھئے یعنی ٢٣درجے ۳۳ دقیقے تو وہاں راس السرطان کی غایت انحطاط یعنی وقت بلوغ دائرہ نصف اللیل ١٦درجے ٥٧دقیقے تھی یا تقریبًا ١٧درجے کہئے اور انحطاط صبح ١٥ درجے ہے تو قطعًا یہی انحطاط شفق ابیض ہے کہ جانبین سے تعادل وتناظر ہے، اس تقدیر پر بعد غروبِ شمس جب تك افق سے آفتاب کا انحطاط بڑھتے بڑھتے ١٥درجے تك پہنچا امام اعظم کے مذہب میں وقت مغرب تھا پھر اس کے بعد جبکہ انحطاط اس سے ترقی کرکے آدھی رات کو ١٧ درجے تك پہنچا پھر
عــــہ۱: مبدء زیج سنہ ضمارکھا ہے یعنی آٹھ سواکتالیس ہجری۔)
عــــہ ۲: وفات امام حدود ٤٥٠ہجری میں ہے یعنی ٤٨یا ٥٢یا ٥٦میں ١٢منہ۔)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع