30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
البیاض لا یذھب الا قریبا من ثلث اللیل١[1]۔ |
سفیدی، تہائی رات کے قریب ختم ہوجاتی ہے۔(ت) |
یہ وہی سپیدی مستطیل ہے جسے وُہ اپنے ملك میں ہمیشہ تہائی رات کے قریب تك رہتی فرماتے ہیں کمادل علیہ الحصر(جیسا کہ حصر کالفظ اس پر دال ہے۔ت)اور ظاہر ہے کہ اُن بلاد میں رات ١٤ گھنٹے اور اس سے بھی کچھ زائد تك پہنچتی ہے جس کی تہائی تقریبًا پونے گھنٹے اور بحکم مقابلہ قطعًا معلوم ہے کہ ادھر جتنے حصہ شب تك یہ سپیدی رہے گی اُدھر اُتنا ہی حصہ شب کا باقی رہے گا_______تواس بیان پر لیالی شتامیں صبح کاذب کی مقدار وہاں پونے پانچ گھنٹے ہُوئی، اور معلوم ہے کہ وہاں صبح صادق کی مقدار پونے دو گھنٹے سے زائد نہیں ، تو صبح صادق وکاذب میں تین گھنٹے تك کا فاصلہ ثابت ہُوا نہ کہ صرف تین ہی درجے۔ مگر امام زیلعی نے تبیین الحقائق میں فرمایا:
|
روی عن الخلیل انہ قال رأیت البیاض بمکۃ شرفہا اﷲتعالٰی لیلۃ فماذھب الا بعد نصف اللیل٢[2]۔ |
شیخ خلیل سے منقول ہے کہ میں نے مکّہ(اﷲتعالیٰ اسے اور بزرگی عطا فرمائے)میں ایك رات سفیدی دیکھی تو وُہ نصف رات کے بعد ختم ہُوئی۔(ت) |
ظاہر ہے کہ مکہ معظمہ میں وہ سپیدی کہ آدھی رات تك رہی،اگر ہوسکتی ہے تو یہی سرطان کی بیاض دراز، ورنہ مکہ معظمہ میں اس کی صبح وشفق مستطیر ڈیڑھ گھنٹا بھی نہیں، تو خلیل بن احمد عروضی کی رؤیت وروایت اگر صحیح ہے اُس دن دونوں صبح میں تقریبًا پانچ گھنٹے کا فاصلہ ہوگا یہ بہت بعید ضرور ہے مگر اس قدر میں شك نہیں کہ تین درجے کا قول فاسد ومہجور ہے، اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ برہان کے اس بیان یاخلیل کی اس رؤیت کو دربارہ وقت مغرب مذہب امام اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ کا ذریعہ تضعیف جاننا،
|
کما وقع عن الطر ابلسی فی البرھان فعدل عن اتباع المحقق ابن الھمام مع شدۃ تاسیسہ بہ۔ |
جیسا کہ برہان میں طرابلسی سے ہے، انہوں نے باتباع محقق ابن الہمام یہاں سے عدول کر لیا حالانکہ وہ ان کی شدید اتباع کرتے ہیں(ت) |
محض خطاہے، امام کے نزدیك وقتِ مغرب شفق ابیض مستطیر تك ہے جو فجر صادق کی نظیر ہے،وُہ کبھی ان بلاد میں تہائی کیا چوتھائی رات تك بھی نہیں رہتی ، اور یہ جو اس قدر دیر پاہے بیاضِ دراز نظیر صبح کاذب ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع