30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حسا ب تو قطعی تھاہی، جتنی بات کی طرف ا سے راہ نہ تھی وہ مکرر رؤیت نے براہِ تجربہ بتادی اور اب تجربہ وحساب دو قطعیوں سے مل کر حکمِ قطعی ہمارے ہاتھ آگیا مثلًا طلوع وغروب اگر نجومی مراد ہوتے یعنی مرکز شمس کا افق حقیقی پر طرفین شرق وغرب میں انطباق کہ ان کے جاننے کے لیے رؤیت کی کچھ حاجت نہ تھی، شہر کا عرض اور جزر شمس کا میل ہونا ہی اُن کا وقت بتانے کے لیے کافی ووافی ہوتا جس کے ذریعہ سے ہم ہر عرض کے لیے جداول تعدیل النہار تیار کرلیتے ہیں مگر شرع مطہر میں اس طلوع و غروب کا کچھ اعتبار نہیں، طلوع وغروب عرفی درکار ہے یعنی جانبِ شرق آفتاب کی کرن چمکنا یا جانبِ غرب کل قرص آفتاب نظر سے غائب ہوجانا اس میں بھی اگر صرف نصف قطر آفتاب کا قدم درمیان ہوتا تو دقّت نہ تھی ، مرکز عالم سے آفتاب کا ہر جز و مرکز شمسی پر بعد دریافت کرکے ہرروز کے نصف قطر کی مقدار دریافت کرسکتے تھے جس کی جدول المنك میں دی ہُوئی ہوتی ہے مگر بالائے زمین ٤٥ میل سے ٥٢ میل تك علی الاختلاف بخارات ہواءغلیظ کامحیط ہونا اور شعاع بصر کا پہلے اس ملاء غلیظ پھر اُس کے بعد ملاء صافی میں گزر کرافق میں پہنچنا حکیم عزوجل کے حکم سے اشعہ بصریہ کے لیے موجب انکسار ہوا جس کے سبب آفتاب یا کوئی کوکب قبل اس کے کہ جانب شرق افق حقیقی پر آئے نظر آنے لگتا ہے اور جانب غرب باآنکہ افق حقیقی پر اس کا کوئی کنارہ باقی نہیں رہتا، دیر تك ہمیں نظر آتا رہتا ہے، یہ انکسار ہی وُہ چیز ہے جس نے صد ہا موقتین کو پیچ وتاب میں رکھا اور طلوع وغروب کا حساب ٹھیك نہ ہونے دیاا ور یہی وُہ بھاری پیچ ہے جس سے آجکل عام جنتریوں والوں کےطلوع وغروب غلط ہوتے ہیں اس انکسار کی مقدارِ مدت دریافت کرنے کو عقل کے پاس کوئی قاعدہ نہ تھا جس سے وُہ محتاجِ رؤیت نہ رہتی، ہاں سالہا سال کے مکرر مشاہدہ نے ثابت کیا کہ اس کی مقدار اوسطًا ٣٣ دقیقہ فلکیہ ہے، اب ضابطہ ہمارے ہاتھ آگیا کہ ان ٣٣ دقیقوں سے اختلاف منظر کے ٩ ثانیہ منہا کرکے باقی پر اس کا نصف قطر شمس زائد کریں، یہ مقدار انحطاط شمس ہوگی یعنی طلوع یا غروب کے وقت آفتاب اُفق حقیقی کے اتنے دقیقے نیچے ہوگا، جب قدر انحطاط معلوم ہولی تو دائرہ ارتفاع کے اجزاء سے وقت و طالع معلوم کرنے کے قاعدوں نے جو علم ہیأت و زیج میں دئے ہوئے ہیں راہ پائی اور ہمیں حکم لگانا آسان ہوگیا کہ فلاں شہر میں فلاں دن اتنے گھنٹے منٹ سکنڈ پر آفتاب طلوع کرےگا اور اتنے پر غروب معمول سے زیادہ ہوا میں رطوبت یا کثافت اگر چہ انکسارمیں کچھ کمی بیشی لاتی ہے جس کا ادراك تھرمامیٹراوربیرو میٹر سے ممکن، اور وُہ قبل از وقوع نہیں ہوسکتا، مگر یہ تفاوت معتد بہ نہیں جس سے عام احکام مطلوبہ شرعیہ میں کوئی فرق پڑے یُونہی مثلین وسایہ کا ادراك بھی حساب سے بہت آسان تھا کہ عرض بلد و میل شمس سے اس کا غایۃ الارتفاع پھر جدول سے اتنے ارتفاع کا ظل اصلی معلوم کرکے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع