30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لرؤیتـہ[1] (بیشك اﷲتعالیٰ نے چاند کا مدار رؤیت پر رکھا ہے۔ت) اس کے ظہور وخفاء کے وہ اسباب کثیرہ نامنضبط ہیں جن کے لیے آج تك کوئی قاعدہ تك کوئی قاعدہ منضبطہ نہ ہوسکا۔ ولہذا بطلیموس نے محبطی میں باآنکہ متحیرہ خمسہ وکواکب ثوابت کے ظہور و خفا کے لیے باب وضع کیے مگر رؤیت ہلال سے اصلًا بحث نہ کی، وہ جانتا تھا کہ یہ قابو کی چیز نہیں، اس کا میں کوئی ضابطہ کلیہ نہیں دے سکتا، بعد کے لوگوں نے اپنے تجارب کی بناء پر اگر چہ لحا ظ درجہ ارتفاع یا بعد سوا یا بعد معدل وقوس تعدیل الغروب وغیرذٰلك کچھ باتیں بیان کیں مگر وہ خود ان میں بشدت مختلف ہیں اور باوصف اختلاف کوئی اپنے قرار داد پر جازم بھی نہیں جیسا کہ و١قفِ پر ظاہر ہے اسی لیے اہلِ ہیئت جدیدہ باآنکہ محض فضول باتوں میں نہایت تدقیق وتعمق کرتے ہیں اور سالانہ المنك میں ہرروز کے لیے قمر کے ایك ایك گنٹھہ کا میل و مطالع قمر اور ہر مہینہ میں آفتاب کے ساتھ اس کے جملہ انظار اجتماع واستقبال وتربیع ایمن وایسر کے وقت دیتے ہیں اور ہرہر تاریخ پر متحیرات وثوابت کے ساتھ اس کے قرانات بیان کرتے ہیں مگر رؤیت ہلال کا وقت نہیں دیتے وہ بھی سمجھے ہوئے ہیں کہ یہ ہمارے بوتے کانہیں ولہذا ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ اس بارہ میں قولِ اہلِ توقیت پر نظر نہ ہوگی، درمختار میں وہانیہ سے ہے:وقول اولی التوقیت لیس بموجب[2] (اہل توقیت کا قول سببِ وجوب نہیں نہیں سکتا۔ت)اور باقی وُہ ہیں کہ اگر چہ اُن کا اصل مدارِ رؤیت نہ ہوسکتا تھا مگر رؤیت ہی کے تکرر سے تجربہ نے اُن کے بارے میں ضوابط کلیہ دیئے جن کاادراك بے رؤیت نہ ہوسکتا تھا مگر بعد ادراك وُہ قاعدہ مقرر ہوکر وقت کو قوانین علم ہیأت وزیج کے ضابطہ میں لے آنا میسر ہُوا جس کے سبب ہم پیش از وقت حکم لگا سکتے ہیں کہ فلاں وقت مطلوب شرعی فلاں گھنٹے منٹ سیکنڈ پر واقع ہوگا۔ واقف فن کا وہ حکم لگایا ہُوا کبھی خطا نہ کرے گا کہ آخر مدار کار شمس وقمر کی چال پر ہے اور اُن کی چال عزیز علیم نے ایك حساب مضبوط پر منضبط فرمائی ہے۔
|
قال تعالٰی اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ﴿۪۵﴾[3] وقال تعالٰی ذٰلِکَ تَقْدِیۡرُ الْعَزِیۡزِ الْعَلِیۡمِ ﴿ؕ۳۸﴾ [4]۔ |
ارشاد باری تعالیٰ ہے: سورج اور چاند حساب سے ہیں۔ اور ارشاد ربانی ہے: یہ حکم ہے زبردست علم والے کا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع