30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تنبیہ:یفھم من کلامھم فی کتاب الحج ان اختلاف المطالع فیہ معتبر فلا یلزمھم شئی لوظھر انہ رؤی فی بلدۃ اخری قبلھم بیوم وھل یقال کذٰلك فی حق الاضحیۃ لغیر الحجاج لم ارہ والظاہر نعم لان اختلاف المطالع انما لم یعبتر فی الصوم لتعلقہ بمطلق الرؤیۃ وھذابخلاف الاضحیۃ فالظاھر انھا کا وقات الصلٰوۃ یلزم کل قوم العمل بما عندھم١[1]۔ |
تنبیہ: کتب الحج میں کلامِ علماء سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ حج میں اختلافِ مطالع کا اعتبار ہے کیونکہ اگر واضح ہوجائے کہ کسی دوسرے شہرمیں ایك دن پہلے چاند دیکھا گیا تھا تو اب حجاج پر کوئی شَے بھی لازم نہ ہوگی، اور کیا قربانی کے بارے میں غیر حجاج کے حق میں بھی یہی کہا جائے گا؟ اس بارے میں حکم میری نظر سے نہیں گزرا، ظاہر یہی ہے(کہ اختلافِ مطالع کا اعتبار ہوگا)کیونکہ صوم میں اختلافِ مطالع کا اعتبار اس لیے نہیں کہ حدیث مبارك میں روزہ کا تعلق مطلق رؤیت سے ہے بخلافِ قربانی کے کہ اس میں ظاہر یہی ہے کہ یہ اوقات نماز کی طرح ہے ہر قوم پر اپنے اوقات کے مطابق عمل لازم ہوگا۔(ت) |
اقول: دونوں صحیح نہیں، الحمد ﷲ دربارہ اضحیہ بھی ویسی ہی حدیث وارد ہے جیسی صوم و افطار میں تھی شرع نے اُسے بھی مطلق رؤیت سے ویسا ہی متعلق فرمایاہے جیسا اُن دونوں کو سنن ابی داؤد شریف میں امیرِمکّہ حارث بن حاطب رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے ہے:
|
قال عھد الینا رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ان ننسك للرؤیۃ فان لم نرہ وشھد شاھدا عدل نسکنا بشھادتھما[2]۔ |
ہمیں رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے وصیّت فرمائی کہ رؤیت پر قربانی کریں پھر اگر ہمیں رؤیت نہ ہو اور دو٢ گواہ عادل گواہی دیں تو ان کی گواہی سے قربانی کرلیں۔ |
امام دار قطنی نے فرمایا:ھذا اسناد متصل صحیح[3] (اس کی سند متصل اور صحیح ہے۔ت)۔اور حج میں ردِ شہادت نہ بر بنائے اعتبار اختلاف ہے ورنہ مہینہ بھر سے فاصلہ کی رؤیت گواہ بیان کریں تو مقبول ہو، حالانکہ علماء مطلقًارد فرماتے ہیں بلکہ اس کی وجہ دفع حرج ہے جیسا کہ لباب و شرح لباب میں تصریح ہے یعنی ہزار ہا کوس کے فاصلوں سے تمام اقطارواطرافِ زمین سے لاکھوں بندہ خدا حج کے لیے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع