30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی میں ہے :
|
لو اخرالتلاویۃ عن موضعھا فان علیہ سجود السھو کما فی الخلاصۃ جازما، بانہ لااعتماد علی مایخالفہ وصححہ فی الولو الجیۃ[1]۔ |
اگر نماز میں سجدہ تلاوت مؤخر کر دیا تو اس کی وجہ سے سجدہ سہو آئے گا جیساکہ خلاصہ میں بطورجزم بیان ہے یعنی اس کے مخالف قول پر اعتماد نہیں کیا جائیگا، ولوالجیہ نے بھی اس قول کی تصحیح کی ہے۔(ت) |
ایضًا درمختار میں ہے:
|
سجود السہو یجب بترك واجب سہو افلا سجود فی العمود قیل الافی اربع[2]۔ |
بھول کر ترك واجب میں سجدہ سہو ہوتا ہے لہذا قصدًا ترك میں سجدہ سہو نہیں ہوگا، بعض کی رائے میں صرف چار مقامات پر عمدًا ترك واجب میں سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے (ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
اشار الی ضعفہ تبعالنور الایضاح لمخالفتہ للمشھور وقد ردہ العلامۃ قاسم بانہ لایعلم لہ اصل فی الروایۃ ولاوجہ فی الدرایۃ٣[3]۔ |
نورالایضاح کی اتباع کرتے ہُوئے انہوں نے اس کے ضعیف ہونے پر اشارہ کیا ہے کیونکہ یہ قول مشہور کے خلاف ہے، اور علّامہ قاسم نے اس کی یُوں تردید کی ہے کہ اس قول کی روایت میں کوئی اصل معلوم نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی عقل دلیل موجود ہے(ت) |
بست وہفتم دربارہ ہلال تار کی گواہی شرعًا محض باطل ونامعتبر وحققناہ فی فتاوٰنا بمالامزید علیہ(ہم نے اس کی اپنے فتاوٰی میں خوب تفصیل بیان کی ہے جس پر اضافہ دشوار ۔ت) نامعتبر شرعی کا درجہ اعتبار کو پہنچا کیونکر، یہاں بھی مولوی صاحب نے مولوی عبدا لحی صاحب لکھنوی کا اتباع کیا ہے مولوی صاحب لکھنوی نے باآنکہ جابجا خود بے اعتبارِ تار کی تصریح کی، جلد اول ص٥٢٣ اس باب(یعنی رؤیت ہلال) میں صرف خبر، تار یا تحریر خطی کافی نہیں جب تك کہ بطور کتاب القاضی الی القاضی( قاضی کا دوسرے قاضی کی طرف لکھنا۔ت) کی تحریر نہ پہنچے، قاعدہ الخط یشبہ الخط( تحریر دوسری تحریر کے مشابہ ہوتی ہے۔ت) کا مشہور ہے[4]۔ایضًا صفحہ ٥٤٠ بحسبِ ضوابط فقیہ مجرد اخبارات تار وغیرہ در باب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع