30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
در مختار میں ہے:
|
لولم یصل التراویح بالامام یصلی الوتر معہ[1] ۔ |
اگر کسی نے تراویح امام کے ساتھ ادا نہیں کی تو وتر امام کے ساتھ ادا کرسکتا ہے(ت) |
جامع الرموز میں ہے:
|
لکنہ اذا لم یصل الفرض معہ لا یتبعہ فی الوتر[2] ۔ |
اگر فرض امام کے ساتھ ادا نہ کئے ہوں تو پھر وتر میں امام کی اتباع نہ کرے(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
امالوصلاھا جماعۃ مع غیرہ ثم صلی الوتر معہ لا کراھۃ[3]۔ |
اگر فرض کسی اور کی اقتداء میں ادا کيے پھر وتر دوسرے امام کے ساتھ پڑھے تواب کراہت نہ ہوگی(ت) |
مولوی عبدا لحی صاحب لکھنوی نے بھی فقہائے کرام سے اس کی ممانعت ہی نقل کی اگر چہ صرف اس بنا پر کہ اس کی وجہ اپنی سمجھ میں نہ آئی، اپنی خاص رائے مخالف بتائی، اپنے فتاوٰی میں لکھتے ہیں:
|
درقنیہ از عین الائمہ ودر تاتارخانیہ از علی بن احمد رحمہ اﷲ تعالیٰ مرقوم کہ ہر کہ فرض باجماعت ادا نہ کردہ باشد وتر ہم بجماعت ادانہ سازد وہمچنیں در غنیہ وغیرہا مذکور ست لیکن کدامی وجہ قوی معتد بہ عدمِ جوازِ معلوم نمی شود حق جواز معلوم مے شود انتہی[4]۔ |
قنیہ میں عین الائمہ سے اور تاتارخانیہ میں علی بن احمد رحمہ اﷲتعالیٰ سے مروی ہے کہ جوشخص فرض جماعت کے ساتھ ادا نہ کرے وُہ وتر بھی جماعت سے نہ پڑھے۔ اور اسی طرح غنیہ وغیرہ میں مذکور ہے۔لیکن اس کے عدمِ جواز پر قوی ومعتدبہ وجہ معلوم نہیں ہوسکی جواز حق معلوم ہوتا ہے انتہی(ت) |
امام عین الائمہ کرابیسی وامام علی بن احمد وقنیہ وغنیہ و جامع الرموز و ردالمحتار کے نصوص صریحہ کے مقابل صرف آپ کی"معلوم نمی شود"(معلوم نہیں ہوسکی۔ت)پر عمل کی کوئی وجہ نہیں، کما لا یخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع