30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مع جماعت وختم قرآن ادا کروں گا تو اب بھی کار بر آری مسلم نہیں کہ مقتدیوں پر وجوب اصلی تھا اور نذر کا وجوب عارضی ہے اور وہ وجوب اصلی سے، اضعف ہے، توا ضعف پر اقوٰی کی بناء صحیح نہیں۔ فتح اﷲالمعین پھر طحطاوی پھر ردالمحتار میں ہے:
|
بناء القوی علی الضعیف انما یمنع اذا کانت القوۃ ذاتیۃ فلو عرضت بالنذر کما ھنا فلاومن ھنا قال فی شرح المنیۃ النذر کالنفل[1] ۔ |
قوی کی بناء ضعیف پر تب منع ہے جب قوت ذاتی ہو، اگر نذر کی وجہ سے عارضی ہو جیسا کہ یہاں ہے تو پھر مانع نہیں۔ اسی مقام پر شرح منیہ میں ہے کہ نذر نفل کی طرح ہوتی ہے(ت) |
اور ضعیف بھی مانئے تو سبب وجوب مختلف ہیں جب بھی بناء صحیح نہ ہوئی جیسے ناذر ناذر کی اقتداء نہیں کرسکتا بلکہ ناذر مفترض کی اقتداء نہیں کرسکتا حالانکہ فرض اقوٰی ہے تو سبب وہی کہ سبب جُدا ہے۔ درمختار میں ہے:
|
لایصح اقتداء ناذر بمفترض ولا بناذر لان کلّا منھما کمفترض فرضا اٰخر الااذانذر احد ھما عین منذور الاخر للاتحاد٢[2] اھ۔ |
نذر ماننے والے کے ليے فرض ادا کرنے والے اور نذر ادا کرنے والے کی اقتداء صحیح نہیں کیونکہ یہ دونوں الگ الگ فرائض ادا کررہے ہیں البتہ اس صورت میں جائز ہوگی جب دونوں کی نذر ایك ہو کیونکہ اس صورت میں اتحاد حاصل ہوگا اھ(ت) |
مولوی صاحب نے یہاں بھی فاضل لکھنوی کااتباع کیا اور فاضل لکھنوی نے حسب حوالہ خود قاضی جگن ہندی کا، والحق احق ان یتبع(جبکہ حق ہی اتباع کے لائق تر ہے۔ت)
بست و چہارم تحقیق یہ ہے کہ جس نے فرض جماعت سے پڑھے اور تراویح تنہا وہ تو جماعتِ وتر میں شریك ہوسکتا ہے، اور جس نے فرض تنہاپڑھے ہوں اگر چہ تراویح جماعت سے پڑھی ہوں وہ وتر کی جماعت میں داخل نہیں ہوسکتا وقد حققناہ فی فتاوٰنا بما یکفی ویشفی(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس پر تسلی بخش گفتگو کی ہے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع