30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ امام کا ایك بار ختم کئے ہوئے ہونا بھی ماثور ومتوارث کے خلاف ہے اس پر اس کا قیاس محض بے معنی ہے بالجملہ متنفل کے پیچھے تراویح نہ ہونا تو ضرور منقول بلکہ اس پر فتوائے فحول، اور ایك بار ختم قرآن پڑھ لینے کے باعث حافظ کا امامت دیگراں سے معزول ہوناکہیں منقول نہیں اور آپ کی اپنی رائے سے بے نقل صحیح حجت و مقبول نہیں۔
خامسًا بلکہ امر بالعکس ہے خود اسی خزانۃ الروایات میں کنز الفتاوٰی سے منقول:
|
رجل ام قوما فی التراویح وختم فیھا ثم ام قوم اخرین لہ ثواب الفضیلۃ ولھم ثواب الختم[1]۔ |
کسی نے تراویح میں امامت کرتے ہوئے قرآن ختم کیا پھر دوسرے لوگوں کی امامت کی تواب امام کے لیے ثوابِ فضیلت اور لوگوں کے لیے ختم کا ثواب ہوگا(ت) |
یہ صریح جزئیہ ہے اور آپ کے خیال کا صاف رَد اور قاضی گجراتی کا ارشاد کہ ھذا الکتاب غیر مشہور بین العلماء فلا وثوق بہ(یہ کتاب علماء کے درمیان مشہور نہیں لہذا اس پر اعتماد نہیں کیاجاسکتا ہے۔ت)مسلم نہیں، صاحبِ کنز الفتاوٰی امام احمد بن محمد بن ابی بکر حنفی مصنف مجمع الفتاوٰی وخزانۃ الفتاوٰی ہیں کشف الظنون میں انہیں بلفظ شیخ و امام وصف کیا:
|
حیث قال کنزالفتاوی للشیخ الامام احمد بن محمد صاحب مجمع الفتاوی الحنفی[2] ۔ |
ان کے الفاظ یہ ہیں کنز الفتاوٰی، شیخ امام احمد بن محمد حنفی صاحب مجمع الفتاوٰی کی کتاب ہے(ت) |
سادسًا ہم عنقریب واضح کرتے ہیں کہ نذر سے بھی عقدہ کشائی نہ ہوگی امثال فاضل لکھنوی سے قال ابو حنیفۃ والحق کذا(امام ابو حنیفہ نے اسی طرح فرمایا ہے مگر حق یہ ہے۔ت)فرمانے والے ہیں، مصنف خزانۃ الروایۃ ایك متاخر ہندی قاضی جگن گجراتی کی ایسی تقلید سخت عجیب و بعید
|
ولکن اﷲیفعل ما یرید والحمد ﷲعلی اراء ۃ السبیل السدید واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی۔ |
اﷲاپنے ارادے کے مطابق کرتا ہے اور صحیح رہنما ئی فرمانے پر اﷲتعالیٰ ہی کی حمد وثنا ہے اور اﷲتعالیٰ بہتر جانتا ہے جس کی ذات نہایت ہی مقدس وبالا ہے(ت) |
بست وسوم اگر وہ مسئلہ وتعلیل قبول کرليے جائیں تو حافظ مذکور اگر نذر بھی مان لے کہ میں تراویح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع