30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عدول نہ کیا جائے۔ت)خود مولوی لکھنوی صاحب نے لکھا:
|
مفتی بہ ومختار متحققین آنست کہ تراویح سنّت علٰیحدہ است و ختمِ سنّت علٰیحدہ ہیچ ازیں ہردو تابع دیگر نیست پس بعد ختم سنیت تراویح باقی خواہد ماند چنانکہ بود[1]۔ |
مفتی بہ اور مختار محققین کے ہاں یہ ہے کہ تراویح الگ سنّت اور ختمِ قرآن الگ سنّت ہے۔ یہ دونوں ایك دوسرے کے تابع نہیں لہذا قرآن کے بعد سنیتِ تراویح اسی طرح قائم رہے گی جیسے کہ پہلے تھی۔(ت) |
باوصف اس جاننے کے پھر مفتٰی بہ سے عدول ہرگز روا نہ تھا اور اس بچنے کے لئے مولوی لکھنوی صاحب کی یہ توجیہ کہ:
|
قول مفتی بہ پرـ اگر چہ تراویح از ذمہ مقتدیاں ساقط خواہد شد چہ درسنت تراویح امام ومقتدی ہر دو برابر اندلیکن در سقوط ختم اشکالیست چہ فقہا در باب اقتداء ضعف نماز امام را اگر چہ بہ یك رکن باشد مانع اقتداء می نویسند چنانچہ در درمختار وغیرہ مذکورست امااقتداء المسافر بالمقیم فیصح فی الوقت و یتم لا بعدہ فیما یتغیر لانہ اقتداء المفترض بالمتنفل فی حق القعدۃ لواقتداء فی الاولیین اوالقراءۃ لو اقتداء فی الاٰخریین٢[2]۔ انتہی دریں صورت باوجود یکہ امام ومقتدی ہر دو تحریمہ فرض بستہ ، سبب ضعف یك جز از اجزاء نمازامام حکم بفساد اقتداء دادہ شد پس بناء ً علیہ درصورت سوال ہم حکم بعدم سقوط ختم از مقتدیان دادہ خواہد شدوہمیں امراز عبارت |
قول مفتی بہ پر اگر چہ تراویح مقتدیوں کے ذمّہ سے ساقط ہوجائیں گی کیونکہ سنت تراویح میں امام اور مقتدی دونوں برابر ہیں لیکن ختم کے سقوط میں اختلاف ہے کیونکہ فقہااقتداء کے باب میں نماز امام کے ضعف کو اگر چہ وُہ ایك رکن میں ہومانع اقتداء قرار دیتے ہیں جیسا کہ درمختاروغیرہ میں ہے ، مسافر کی اقتداء مقیم کے ساتھ وقتی نماز میں صحیح ہے اور وہ ادا بھی چار رکعت کرے لیکن بعد میں تبدیلی آجاتی ہے لہذا اقتدادرست نہیں ہوگی کیونکہ اب اگر پہلی دورکعات میں اقتداکرے گا تو قعدہ کے اعتبار سے فرض ادا کرنے والے کی متنفل کی اقتدا لازم آئے گی اور اگر آخری دورکعات میں اقتداء کرے تو قرأت کے اعتبار سے یہی خرابی لازم آئیگی انتھٰی،حالانکہ اس صورت میں امام اور مقتدی دونوۤں نے فرض کی تکبیر تحریمہ کہی لیکن نمازِ امام کے ایك جُز کے ضعف کی وجہ سے فسادِ اقتداء کا حکم جاری ہوگیا۔اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع