30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لکھنوی کا اتباع کیا ہے۔ مولوی صاحب لکھنوی خزانۃ الروایات سے ناقل ہیں:
|
قال السغناقی،امام ختم فی التراویح مرۃ و ختم ثانیا بغیرھذاالقوم لایخرج ھذاالقوم الثانی عن السنیۃ لان الامام خرج السنیۃ فصارلہ نفلا فیدرکون ثواب صلٰوۃ النفل ولا یدرکون ثواب صلٰوۃ التراویح[1]۔ |
شیخ سغناقی کہتے ہیں امام نے ایك مرتبہ تراویح میں قرآن ختم کیا تو دوسری قوم سنت کو ادا کرنے والی قرار نہیں پائے گی کیونکہ امام سنت ادا کرچکا تھا اب اس کے لئے وُہ نفل ہے، لوگ نماز نفل کا ثواب تو پائیں گے مگر تراویح کا ثواب نہیں پائیں گے(ت) |
ظاہرہے کہ اس کا مبنی وہ قول ضعیف ہے کہ جب ختم قرآن ہو جائے تو تراویح سنت نہیں رہتیں ،
|
کما یفصح عنہ قولہ یدرکون ثواب صلٰوۃ النفل وقولہ ولا یدرکون ثواب صلٰوۃ التراویح ۔ |
جیسا کہ ان کا یہ قول واضح کر رہا ہے کہ وہ نماز نفل کا ثواب پائیں گے اور یہ قول بھی کہ وہ تراویح کا ثواب نہیں پا ئیں گے۔(ت) |
اور یہ قول ضعیف وناماخوذ ہے اصح ومعتمدومعمول بہ یہی ہےکہ ختم اگرچہ ہو جائے تراویح سارے ماہِ مبارك میں سنّتِ مؤکدہ ہیں، اسی پر جوہرہ میں جزم کیا اور اسی کو سراج وہاج میں اصح کہا۔ عالمگیریہ میں ہے:
|
لوحصل الختم لیلۃ التاسع عشراوالحادی و العشرین لایترك التراویح فی بقیۃ الشہر لانھا سنۃ کذافی الجوھرۃ النیرۃ الاصح انہ یکرہ لہ الترك کذا فی السراج الوھاج[2]۔ |
اگر قرآن انیسویں یا اکیسویں کو ختم ہوگیا تو باقی ماہ میں تراویح کو ترك نہ کیا جائے کیونکہ یہ سنت ہیں، جیسا کہ الجوہرۃ النیرۃ میں ہے۔ اصح یہ ہے کہ تراویح کا ترك مکروہ ہے، جیسا کہ السراج الوہاج میں ہے۔ |
تو اب اس سے عدول کا اختیار نہ رہا۔ فتاوٰی خیریہ جلد اول میں فرمایا:
|
انت علی علم بانہ بعد التنصیص علی اصحیتہ لایعدل عنہ الٰی غیرہ[3]۔ |
آپ باخبر ہیں کہ جب اس حکم کے اصح ہونے پر تصریح مل جائے تو دوسرے قول کی طرف عدول نہیں کیا جائیگا(ت) |
اسی کی جلد ثانی میں فرمایا: حیث ثبت الاصح لایعدل عنہ[4] (جب اصح کا ثبوت ہوتو پھر اس سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع