30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیحرر(غور طلب ہے۔ت)واﷲتعالٰی اعلم
بستم حاملہ کو بھی مثل مرضعہ روزہ نہ رکھنے کی اجازت اسی صورت میں ہے کہ اپنے یا بچّے کے ضرر کا اندیشہ غلبہ ظن کے ساتھ ہونہ کہ مطلقًا جیسا کہ اشتہار نے زعم کیا۔
بست ویکم جب رکعاتِ تراویح میں اختلاف پڑے کہ بیس ٢٠پڑھیں یا اٹھارہ١٨، تو اس میں نہایت کثرت سے مختلف صورتیں ہیں، اُن کی تمام تر تفصیل اور اُن کے اصول کی تاصیل اور اُن کے احکام تحقیق و تحصیل فقیر نے تعلیقاتِ ردالمحتار میں ذکر کی یہاں اجمالًا اتنا گزارش کہ نہ مطلقًا اختلاف امام وقوم کی حالت میں مقتدیوں کو دو٢ رکعت پڑھنے کا حکم، نہ مطلقا تنہا پڑھنے کا حکم ،نہ یہ حکم مطلقًاامام کو کسی عدد پر یقین نہ ہونے کے ساتھ خاص، مثلًا مقتدیوں کا یقین ہے کہ بیس ہوگئی اور امام کو شك تھا یا اٹھارہ کا یقین ہی ہے تو مقتدی اصلًا دو٢ رکعت نہ پڑھیں گے، نہ جماعت سے نہ تنہا، کہ جب اُنہیں تراویح کامل ہوجانے کا یقین ہے تو اب اُنہیں امام کے شك یا یقین سے زیادہ کا کیونکر حکم ہوسکتا ہے، اپنے جزم پر غیر کا جزم بھی حاکم نہیں ہوسکتا نہ کہ شک، ردالمحتار میں ہے:
|
لو تیقن الامام بالنقص لزمھم ا لاعادۃ الامن تیقن منھم بالتمام[1]۔ |
اگر امام کو کم کا یقین ہو تو ان پر اعادہ لازم ہے مگر ان میں سے جسے تکمیل کا یقین ہو(ت) |
فتح القدیر میں ہے:
|
لان یقینہ لایبطل بیقین غیرہ[2]۔ |
کیونکہ اس کا یقین کسی دوسرے کے یقین سے باطل نہیں ہوسکتا ۔(ت) |
اور اگر مقتدیوں کو ١٨کا یقین ہے اور امام کو بیس٢٠ کاشك ہوتو خود امام بھی دو اور پڑھے گا اور یقین مقتدیاں کی اقتداء کرے گا اور جماعت سے پڑھی جائیں گی۔درمختار میں ہے:
|
لواختلف الامام والقوم فلو الامام علی یقین لم یعد والااعاد بقولھم[3]۔ |
اگر امام اور مقتدیوں کے درمیان اختلاف ہوگیا اگر امام کو یقین ہوتو اعادہ نہ کرے اوراگر یقین نہ ہو تو مقتدیوں کا قول معتبر ہونے کی وجہ سے اعادہ ہوگا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع