30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مشرحًا بیان کیا ہے اور یہ
فتوٰی تحفہ حنفیہ عظیم آباد میں چھپ بھی گیا ہے اور بریلی کے سیر سے کہ پورے سَو
روپے بھر کا ہے ایك سیر سات چھٹانك دو ماشے ساڑھے چھ رتی اور رامپور کے سیر سے کہ
چھیانوے کا ہے پورا ڈیڑھ سیر، فاحفظ ولاتزل
چہار دہم جس نے بعذر شرعی روزہ نہ رکھا اسے دقت نہ ہو تو حرمت ماہ مبارك کے لحاظ
سے حتی الوسع چھپا کر کھانا پینا چاہئے مگر کسی روزہ دار کے سامنے کچھ نہ کھانے کا
مطلقًا وجوب محتاجِ دلیل ہے۔
پانزدہم کاغذ یا کنکر یا خاك وغیرہا اشیاکو کہ نہ دوا ہیں نہ غذا، نہ مرغوبِ طبع، اگر تل بھر نہیں پیٹ بھر کھالے گا صرف قضا ہوگی کفارہ نہ آئے گا۔ یونہی روزہ توڑنا عمدًا حقنہ وغیرہا اشیائے مذکورہ مابعد کو بھی شامل، مگر اس میں کفارہ نہیں۔ نیز کفارہ صرف اداروزہ رمضان کے توڑنے میں ہے، جبکہ یہ نہ صاحبِ عذر تھا نہ اُس دن میں کوئی آسمانی عذر مثل حیض یا مرض پیدا ہوجائے، نہ ہی توڑنا کسی کے جبرواکراہ سے ہو اور روزے کی نیت رات سے کی ہو، درمختار میں ہے:
|
ثم انما یکفر ان نوی لیلا ولم یکن مکرھا ولم یطرأمسقط کمرض وحیضٍ[1]۔ |
پھر کفارہ تب ہوگا جب تك رات کو نیت کی ہو اور مجبور بھی نہ ہو اور کفارہ چھوڑنے کا کوئی عارضہ مثل مرض وحیض وغیرہ کے لاحق نہ ہواہو(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ مسقط ای سماوی لاصنع لہ فیہ ولا فی سببہ، رحمتی[2]۔ |
قولہ مسقط یعنی و ہ عارضہ سماوی جس میں بندے کا کوئی دخل نہ ہواور نہ اس کے سبب میں دخل ہو، رحمتی۔(ت) |
تو یہ اشتہاری مطلق احکام سب غلط ہیں۔
شانزدہم کفارے میں شرعًا ترتیب ہے سب میں پہلے ایك غلام آزاد کرنا ہے، اس کی طاقت نہ ہوتودو٢ مہینے کے لگاتار روزے، یہ بھی نہ ہو سکے تو اخیر درجہ ساٹھ مسکین کما نص اﷲتعالیٰ علیہ فی اٰیۃ الظھار(جیسا کہ اﷲتعالٰی نے آیتِ ظہار میں تصریح فرمادی ہے۔ت)غلام آزاد کرنا تو شاید اشتہار میں اس لیے مذکور نہ ہُوا کہ یہاں غلام کہاں، مگر روزوں اور ساٹھ مسکینوں میں ترتیب نہ رکھنا صحیح نہیں،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع