30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اذاکان بین البلدتین تفاوت لایختلف المطالع یلزمہ وذکر شمس الائمۃ الحلوانی انہ الصحیح من مذھب اصحابنا[1]۔ |
میں ہے جب دونوں شہروں کے درمیان اتنا تفاوت ہو جس سے مطالع میں اختلاف نہ ہو تو لازم ہوگا، شمس الائمہ حلوانی نے ذکر کیا ہے کہ ہمارے مذہب میں صحیح یہی ہے ۔(ت) |
نقل کی اور ظاہرًا خیال کیا کہ تصحیح امام شمس الائمہ اعتبار اختلاف کی طرف ناظر ہے حالانکہ وہ مذھب اصحابنا فرمارہے ہیں اور ظاہر ہے کہ مذھب اصحابنا نہیں مگر ظاہر الروایۃ کما قد منا نقولہ فیما سبق(جیسا کہ ہم نے پہلے تذکرہ کردیا ہے۔ت)اور ظاہر الروایۃ نہیں مگر عدم اعتبار اختلاف جیسا کہ خود مولوی صاحب کو اعتراف، ج٢ص١٦٢پرلکھا:
|
نزد اکثر مشائخ حنفیہ موافق ظاہر الروایۃ اختلاف مطالع رامطلقا اعتبار نیست ٢[2]۔ |
ظاہر الروایۃ کے موافق اکثر مشائخ حنفیہ کے نزدیك اختلافِ مطالع کا مطلقًا اعتبار نہیں(ت) |
ج۲ص۱٤٧پرکہا: جب کسی شہر میں ثابت ہوجائے کہ فلاں شہر میں چاند ہوا تو ان پر موافق اس کے حکم دیا جائے گا گو دونوں شہروں میں بُعدِ مسافت ہوا ور یہی ظاہرالروایۃ ہے[3]؎۔
|
لاجرم پھرغنیہ ذوی الاحکام میں فرمایا:قال الامام الحلوانی الصحیح من مذھب اصحابنا ان الخبر اذاا ستفاض فی بلدۃ اخری وتحقق یلزمھم حکم تلك البلدۃ[4]۔ |
امام حلوانی نے فرمایا ہمارے اصحاب کا صحیح مذہب یہی ہے کہ جب خبر دوسرے شہر میں مشہور ومتحقق ہوجائے تو پھر دوسرے شہر والوں پر پہلے اہلِ شہر کا حکم لازم ہوگا۔(ت) |
مسلك متقسط شرح منسك متوسط میں فرمایا:
|
ان ثبت فی مصر لزم سائرالناس فی ظاھر الروایۃ و علیہ اکثر المشائخ |
جب شہر میں ثبوت ہوجائے تو ظاہر الروایۃ کے مطابق باقی لوگوں پر لازم ہوگا، اکثر مشائخ کی یہی |
[1] مجموعہ فتاوٰی عبد الحی کتاب الصوم مطبع یو سفی لکھنؤ ١/٢٦٥، ٢٧٣،٢٧٥،فتاوٰی تاتارخانیہ کتاب الصوم ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ٢/٥
[2] مجموعہ فتاوٰی محمد عبد الحی کتاب الصوم مطبع یوسفی لکھنؤ ١/٢٧٤
[3] مجموعہ فتاوٰی محمد عبد الحی کتاب الصوم مطبع یوسفی لکھنؤ ١/٢٦٦
[4] غنیہ ذوی الاحکام حاشیۃ دررالحکام کتاب الصوم احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادت بیروت ١/٢٠١
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع