30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھکذا الی نحوماجری بینہ وبین ام الفضل و حینئذ لادلیل فیہ لان مثل ماوقع من کلامہ لو وقع لنا لم نحکم بہ لانہ لم یشھد علی شھادۃ غیرہ ولا علی حکم الحاکم ،فان قیل اخبارہ عن صوم معاویۃ یتضمنہ لانہ الامام یجاب بانہ لم یات بلفظ الشہادۃ ولو سلم فھو واحد لا یثبت بشھادتہ وجوب القضاء علی القاضی واﷲ سبحانہ و تعالٰی اعلم والاخذ بظاھرالروایۃ احوط اھ[1] اقول: لکن فی الحدیث قال انت رایتہ قلت نعم[2] و الاخبار فی رمضان کاف فماذکر الفقیر اولی۔
|
ھٰکذا میں اس بات کی طرف اشارہ ہے جو ان کے اور حضرت ام فضل کے درمیان جاری ہوئی تو اب یہ دلیل نہیں کیونکہ ان کے کلام کی طرح ہمارے سامنے معاملہ آجائے تو ہم اس پر فیصلہ نہیں کریں گے کیونکہ ایسا بیان کرنے والے نے نہ تو کسی کی شہادت پر گواہی دی ہے اور نہ کسی حاکم کے فیصلہ پر، اگر کوئی سوال اٹھائے کہ حضرت معاویہ کے روزہ کی اطلاع اس گواہی کو متضمن ہے کیونکہ وہ امیر تھے ، اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ یہاں لفظ شہادت کا ذکر نہیں، اور اگر اس بات کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو وہ تنہا ہیں، تو ان کی شہادت سے قاضی پر قضا کا فیصلہ لازم نہ ہوگا اﷲتعالیٰ بزرگ و برتر بہتر جانتا ہے اور ظاہرالروایۃ پر عمل احوط ہے اھ اقول: حدیث میں ہے تونے اسے دیکھا ہے، میں نے کہا ہاں، اور رمضان کے لیے یہ اطلاع ہی کافی ہے، توبندہ حقیر نے جو ذکر کیا وہ اولٰی ہے(ت) |
معہذامو لوی صاحب مذکور کو حدیث سے استنا د اس وقت پہنچتا کہ دمشق ومدینہ طیبہ میں یك ماہہ راہ کا فصل ثابت کیا جاتا ورنہ حدیث خود ان کے بھی مخالف ہوگی کما لا یخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ت)یہاں ایك امر یہ بھی قابلِ تنبیہ ہے کہ مولوی صاحب مذکور نے اپنے فتاوٰی میں تین جگہ عبارتِ تاتارخانیہ:
|
اھل بلدۃ اذا رأو الھلال ھل یلزمہ ذٰلك فی حق کل بلدۃ اخری اختلف المشائخ فیہ، فبعضھم قالو الا یلزم ذٰلك فانما المعتبر فی حق اھل بلدۃ رؤیتھم وفی الخانیۃ لا عبرۃ لاختلاف المطالع فی ظاھر الروایۃ وفی القدوری |
جب ایك شہر والوں نے چاند دیکھا تو کیا ہر شہر والوں پر روزہ لازم ہوگا؟اس میں مشائخ کا اختلاف ہے، بعض نے کہا ہے اس سے روزہ لازم نہیں، ہر شہر والوں کے حق میں ان کی اپنی رؤیت ہی معتبر ہے۔ خانیہ میں ہے ظاہرالروایت کے مطابق اختلافِ مطالع کا اعتبار نہیں، اور قدوری |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع