30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واقعہ ہے اس کا حکم عمومی نہیں۔ت)بحال صفائے مطلع بکثرت ائمہ ایك کی گواہی نہیں مانتے ممکن کہ ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما نے اسی بنا پر نہ مانی ہو ، اور امیرمعاویہ رضی اﷲتعالٰی عنہ کا حکم تو بے نصاب شہادت ثابت ہوہی نہ سکتا تھا، تنویر میں ہے:
|
شھد واانہ شھد عند قاضی مصرکذاالخ[1] |
گواہوں نے کہا کہ انہوں نے قاضیِ شہر کے پاس اس طرح گواہی دی ہے الخ(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ شھدوا' من اطلاق الجمع علٰی مافوق الواحد وفی بعض النسخ شھدابضمیر التثنیۃ وھو اولٰی[2]۔ |
قولہ"شھدوا"یہاں جمع کا اطلاق ایك سے زائد پر ہے، بعض نسخوں میں ضمیر تثنیہ کے ساتھ شھدا ہے اور یہی اولیٰ ہے۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
یلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت عند ھم رؤیۃ اولٰئك بطریق موجب کما مرّ[3]۔ |
اہل مشرق پر اہل مغرب کی رؤیت روزہ رکھنا لازم تب آئے گا جب ان کی رؤیت بطریق موجب شرعی ثابت ہوگی جیسا کہ گزرا ہے(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
کان یتحمل اثنان الشہادۃ او یشھدا علی حکم القاضی او یستفیض الخبر[4]۔ |
دو٢ آدمی شہادت پر شہادت دیں یا حکمِ تام پرشہادت دیں یا خبر مشہور ہو۔(ت) |
لہذا حضرت ابن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما نے لا فرمایا: بنگاہِ اولیں یہ جواب فقیر کے خیال میں آیا تھا، پھر دیکھا امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اور جواب دیا اور اس کے بعض کی طرف بھی اشارہ کیا، فرماتے ہیں:
|
قد یقال ان الاشارۃ فی قولہ |
یُوں کہا جا سکتا ہے کہ حضرت ابن عباس کے ارشاد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع