30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علامہ عبدالعلی برجندی شرح میں فرماتے ہیں:
|
تاہر دو شرط وجودنگیر وہلال مرئی نہ شود و متعارف درین زمان این ست[1]۔ |
جب تك یہ دونوں شرطیں نہ پائی جائیں چاند نظر نہیں آسکتا اور اس زمانہ میں یہی متعارف ہے(ت) |
اب فرض کیجئے کہ یہاں وقتِ غروب بعد سوا،ط حہ لظ یعنی دس درجے سے ایك دقیقہ کم تھا تو ہلال قابل رؤیت نہ تھا اور ایك درجہ حرکت وسطی٤دقیقہ میں ہے اور اس مدّت میں سبق قمر تقریبًا دودقیقے بلکہ کبھی اس سے بھی زائد ہے توجب قمر اس شہر سے ایك درجہ بلکہ کم فاصلے کے مقام رؤیت پر آیا بُعد دس درجے سے زائد ہوگیا اوررؤیت ہوگئی، اسی طرح ارتفاعِ قمر وغیرہ اختلاف کے ذرائع سے بھی تقریر مدعا ممکن، تو ثابت ہوا کہ ٢٤ بلکہ ٢٣ فرسخ سے کم بھی اختلاف ممکن ہے، اب کوئی راہ نہ رہی سوااس کے کہ حد اصلًا نہ باندھئے بلکہ یا تو ہمیشہ ہر جگہ ہر ماہ کے لیے خصوص حال ہلال، حال ومحال استہلال پر نظر کیجئے یا مطلقًا کہہ دیجئے کہ ایك شہر کی رؤیت دوسرے کے لیے اصلًا معتبر نہیں اگرچہ ٢٤ فرسخ سے بھی کم فاصلہ ہو، ثانی تو بالاجماع مردود ہے اختلاف معتبر ماننے والے بھی ایسے عموم و اطلاق کے ہر گز قائل نہیں،ا ور اوّل کی طرف راہ نہیں، مگر انہیں حسابات دقیقہ طویلہ مرئی و عرض مرئی وانکسار اُفقی اختلاف منظر افقی و تعدیل الغروب وبُعد معدل وغیرہا کے ذرائع سے جن کے بعد بھی بہت اوقات سواظن وتخمین کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ یہ وہی محاسبات ہیں جن کو شریعتِ مطہرہ دربارہ ہلال یك لخت ساقط و باطل فرماچکی، تو بحمد اﷲتعالیٰ نہ ہلال روشن بلکہ آفتاب پردہ برافگن کی طرح آشکار اہُواکہ اختلاف مطالع معتبر ماننا ہی خلافِ تحقیق تھا اور یہ کہ وہ مؤید بحدیث نہیں بلکہ وہی حدیث مجمع علیہ کے ارشاد واجب الانقیاد سے دُور وسحیق تھا اور یہ کہ نہ صرف رمضان وشوال بلکہ کسی مہینے میں شرع مطہر اُس کی طرف اصلًا دعوت نہیں فرماتی اور یہ کہ ہمارے ائمہ کا مذہب مہذب اس اعلیٰ درجہ تدقیق انیق پر ہوتا ہے کہ مدعیانِ تحقیق تك اس کی ہوا بھی نہیں آتی ھکذا ینبغی التحقیق واﷲتعالیٰ ولی التوفیق(تحقیق یُوں ہی ہونی چاہئے اور توفیق کا مالك اﷲ ہے۔ت)کیاا نہیں معلوم نہ تھا اختلاف مطالع ہوتاہے، ضرور معلوم تھا، مگر ساتھ ہی یہ بھی جانتے تھے کہ اسکا فتح باب اسی حساب ناقص النصاب کی طرف کھینچ کرلے جائے گا، جسے مصطفی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم رَد فرما چکے ہیں، لاجرم صاف فرمادیا کہ اختلاف مطالع اصلًا معتبر نہیں ان اﷲامدہ لرؤیتہ[2]احق تعالیٰ نے مدار رؤیت پر رکھا ہے، اگر رؤیت ثبو ت شرعی سے ثابت ہے اگر چہ کتناہی فاصلہ ہو، اور نہیں تو نہیں اگر چہ کتنا ہی قریب ہو،اور یہیں سے ظاہر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع