30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معتبر ہو، مگر بنے گی یہ بھی
نہیں کہ تفاوتِ عرض بھی قطعًا اختلافِ رؤیت لاتا ہے جس کے بعض وجوہ کی طرف ابھی
اشارہ ہوچکا تو اُس کا نظر سے اسقاط نا ممکن، تفاوت عرض سے یہاں تك تو ہوگا کہ ایك
شہر میں ہلال مرئی ہو اور دوسرے شہر میں چاند اس وقت زیرِ زمین جاچکا ہو رؤیت و
عدمِ رؤیت ہلال تو بالائے طاق رہی، غرض یُوں بھی ٹھیك نہیں آتی ، اور حقیقتِ امر
یہ ہے کہ تحدید کرنے والوں نے محض سرسری طور پر ایك حد کہہ دی تنقیح پر آئیے تو
قیامت تك وُہ خود اس کی حد بست نہ کرسکیں گے۔
ثالثًا اس سب سے قطع نظر کیجئے تو اب ہمارا وُہ سوال متوجہ ہے کہ اس اعتبار
اختلاف سے کیامراد، آیا دو٢ شہروں کا ایسا فصل کہ چاند جب اك میں مرئی ہوتو دوسرے
میں رؤیت ہمیشہ ناممکن ہو، یہ وہ اختلافِ مطالع ہے جسے معتبر مانتے ہیں یا صرف
ایسا فصل کہ ایك میں رؤیت ہونے کے ساتھ دوسرے میں رؤیت نہ ہونا ممکن ہویہ معتبر ہے،
بالجملہ بنظر فاصلہ بلدین دوسرے شہر میں عدمِ امکان چاہئے یا امکان عدم، اوّل تو
یقینا باطل ہے دنیا میں کوئی فاصلہ ایسا نہیں کہ ایك جگہ ٢٩ کی رؤیت کو صرف نظر
بفصل مسافت بے لحاظ خصوص حال ہلال حال دوسری جگہ محال کرتاہو، اختلاف معتبر ماننے
والوں نے بڑی حد یك ماہہ راہ بتائی، اور انہیں بھی انکار نہیں ہوسکتا کہ ہزارہا
بار یہاں بھی٢٩ کا چاند ہُوا اور یہاں سے مہینوں راہ کے فاصلے پر بھی ہُوا بلکہ جب
یہاں ٢٩کا ہوتو اس عرض میں غرب کو جتنا بڑھیے بدرجہ اولیٰ٢٩ ہی کا ہوگا تو
بالضرورۃ ثانی ہی مقصود اور اب بالیقین راہِ تحدید مسدود، مہینے بھر کی راہ تو بہت
ہے، ٢٤فرسخ کا فاصل جس پر تاج تبریزی نے ادعا کیا کہ اس سے کم ہیں اختلاف ممکن
نہیں، اور علّامہ شامی نے براہِ تحسینِ ظن فرمایا کہ اُن کا یہ دعویٰ قواعد فلکیہ
پر ہی مبنی ہوگا۔
اقول: ہرگز قواعد فلکیہ اس عدمِ امکان کے ساتھ مساعد نہیں بلکہ صراحۃً اس کا رد کرتے ہیں، ایك درجہ زمین یقینا ٢٤ فرسنگ سے کم ہے کہ یہ ٦٩ میل ہے اور وہ بہتّر، مگر ایك درجے بلکہ اس سے کم فصل غربی پر بھی اختلافِ رؤیت ممکن، دربارہ ہلال کہ کب صالح رؤیت ہوتا ہے اگر چہ اختلاف اقوال بکثرت ہے، اس میں دس قو ل تو اس وقت میرے پیش نظر ہیں جن کی وجہ وہی ولوکان من عند غیراﷲ(اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا۔ت)ہے مگر متاخرین اہلِ ہیئت نے بعد تطاول تجارب جس پر استقرار رائے کیا، وہ یہ ہے کہ نیرین میں بُعد ،سوا دس١٠ درجے سے زائد ہو اور بُعد معدل١٠ سے کم نہ ہو۔ زیج سلطانی میں ہے:
|
اگر بُعدمعدل میان دہ درجہ ودوازدہ درجہ باشد وبُعد سوا،ازدہ بیش تر باشد ہلال بتواں دید باریک[1]۔ |
بُعدِ معدل اگردس١٠ اور بارہ درجہ کے درمیان ہواور بُعد،سوا دس١٠درجہ سے زائد ہوتو چاند ایك بار دیکھا جاسکتا ہے(ت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع