30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور جو اس حال میں بھی یوم الشك کہیں ان کے نزدیك اس لیے کہ:
|
من صام یوم الشك فقد عصی اباالقاسم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم[1]۔ |
جس نے یومِ شك کاروزہ رکھا اس نے حضور ابوالقاسم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
لایصام یوم الشك ھو یوم الثلثین من شعبان وان لم یکن علۃ، الاتطوعا ویکرہ غیرہ٢[2]۔ (ملخصا) |
یومِ شك میں روزہ نہ رکھا جائے اور یہ شعبان کا تیسواں دن ہوسکتا ہے اگر چہ کوئی علت نہ ہو، ہاں نفلی روزہ رکھا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ مکروہ ہے(ت) |
ہفتم: اس ایجادی اختراعی حکم کی یہ تعلیل"کیونکہ با لضرور دنیا میں اس روز چاند ہوا ہوگا"اس بالضرور پر کیا دلیل ، خود ہی اشتہار میں درمختارو شرح مجمع عینی سے اتنا نقل کیا کہ:لجواز تحقق الرؤیۃ فی بلدۃ اخری٣[3] (کیونکہ دوسرے شہر میں رؤیت کا ثبوت ہوسکتا ہے۔ت)نہ کہ لوجوب وقوع الرؤیۃ فی مکان من الدنیا(دنیاکے کسی گوشے میں رؤیت کا وقوع واجب و لازم ۔ت)
ہشتم: اگر ہر ٢٩ کو کہیں نہ کہیں رؤیت ہونی ضرور ہوتو عدم اعتبار اختلاف مطالع پر کہ ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم کا وہی مذہب ہے اور اسی پر فتوٰی اور اسی پر اعتماد ہے ہمیشہ رمضان ٢٩ ہی دن کا ہونا لازم ہو کہ با لضرور دنیا میں چاند ہوا ہوگا اور اختلافِ مطالع معتبر نہیں حالانکہ یہ اجماعِ اُمّت و نصوص صریحہ کے خلاف ہے۔
نہم: جب بالضرورۃ کہیں نہ کہیں رؤیت ہونی معلوم،تو ائمہ کا ارشاد کہ ثبوتِ شرعی مثل شہادت و استفاضہ شرعیہ سے دوسری جگہ رؤیت ہونی ثانت ہوتو ہم پر لازم ہوگا ورنہ نہیں کما نص علیہ فی الدرالمختار وسائر الاسفار(جیسا کہ درمختار اور دیگر کتب میں اس پر تصریح ہے۔ت)محض لغو ومہمل بلکہ غلط و باطل ہو، کہ جب یقینا دوسری جگہ وقوعِ رؤیت معلوم ہے تو یقین سے زیادہ اور کون سا ثبوت چاہئے، کیا ضروریات کے لیے بھی گواہی کی حاجت ہے افسوس کہ علماء نے طریق موجب شرعی سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع