30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باوصف صفائے مطلع ہلال نظر نہ آئے تو علماء کو اختلافِ شدید ہے ایسی نادر صورت کے ذکر کی اشتہار میں حاجت نہ تھی، اورذکر ہوا تومذہب مفتی بہ کا اتباع ضرور تھا اوریہاں مفتی بہ یہی ہے جس کے ضعف کی طرف اشتہار میں اشعار کیا یعنی عید کرلی جائے اگر چہ چاند نظر نہ آئے، بلکہ علامہ نوح نے فرمایا کہ یہی مذہب ہمارے ائمہ ثلاثہ رضی اﷲتعالیٰ عنہم کا ہے، اور دوسرا قول کہ ٣١ روزے رکھے جائیں صرف بعض مشائخ کا ہے تو اس تقدیر پر تو وُہ اصلًا قابلِ لحاظ نہ رہا۔ تنویرالابصار میں ہے:
|
بعد صوم ثلثین عدلین حل الفطر١[1]۔ |
تیس روزوں کے بعد دو٢ عادل گواہوں کی شہادت پر عید الفطر جائز ہوتی ہے(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
ای اتفاقاان کانت لیلۃ حادی والثلثین متغیمۃ وکذا لومصحیۃ علی ماصححہ فی الدرایۃ والخلاصۃ والبزازیۃ[2]۔ |
یعنی یہ جواز بالاتفاق ہے جب اکتیسویں رات مطلع ابر آلود ہو اوردرایہ،خلاصہ اور بزازیہ کی تصحیح کے مطابق اگر مطلع ابر آلود نہ بھی ہوتب بھی یہی حکم ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
ونقل العلامۃ نوح الاتفاق علی حل الفطر فی الثانیۃ ایضاعن البدائع والسراج والجوھرۃ قال والمراد اتفاق ائمتنا الثلثۃ وما حکی فیھا من الخلاف انما ھو لبعض المشائخ، قلت وفی الفیض، الفتوی علی حل الفطر[3]۔ |
علامہ نوح نے بدائع، سراج اور جوہرہ سے نقل کیا کہ دوسری صورت (جب اکتیسویں رات مطلع ابر آلودنہ ہو)میں بھی جواز عید الفطر پر بھی اتفاق ہے اور پھر کہایہاں اتفاق سے مراد ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے اور اس میں جو اختلاف منقول ہے وُہ بعض مشائخ کا ہے ۔میں کہتا ہُوں فیض میں ہے فتوٰی جواز فطر پر ہے(ت) |
مذہب مفتی بہ بلکہ اپنے تمام ائمہ کے مذہب صحیح و معتمد کو ضعیف بتانا اور اُس کے مقابل بعض مشائخ کے قول
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع