30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیچے کو بڑھتی جاتی ہے، افق سے بہت اُونچی چمکی تھی اور نیچے دُور تك اندھیرا تھا اب وُہ اونچی سپیدی تواپنی جگہ رہتی ہے اور اس کے نیچے سپیدی اور اس میں ملتی جاتی ہے یہاں کہ شدہ شدہ افق کے قریب تك آنے کو ہوتی ہے مگر ان سب حالتوں میں وُہ ایك طولانی ستون کی حالت میں ہوتی ہے گویا ایك سفید چادر اوپر سے نیچے لٹکائی گئی ہے کہ اسی حد تك سپیدی ہے اور آس پاس بالکل اندھیراان شکلوں پر
یہاں امیج کی شکل میں ڈبے بنانے ہیں جلد ۱۰ ص۵۷۲
(٣) ان تمام اشکال کے بعد اس عمود کے حصّہ زیریں کے دونوں
پہلوؤں پر نہایت تھوڑی دُور تك ایك خفیف بھوراپن خاکستری رنگ پیدا ہوتا ہے کہ کبھی
تمیز میں آتا ہے اور معًا نگاہ کے نیچے سے نکل جاتا ہے اس طرز پر
اب یہ وہ وقت کہ صبح صادق اپنے رُخِ روشن سے نقاب اُٹھایا
چاہتی ہے مگر ہنوز صبح نہیں کہ اُس کے لے تبیُّن شرط ہے اور یہ متبیّن نہیں:
|
حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیۡطُ الۡاَبْیَضُ مِنَ الْخَیۡطِ الۡاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪ ثُمَّ [1] |
اﷲتعالٰی کا ارشاد گرامی ہے: یہاں تك کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پَوپھٹ کر۔ (ت) |
ان تمام حالتوں تك صبح کاذب ہی ہے اور نمازِ عشاء اور سحری کھانے کا وقت بالاتفاق باقی ہے۔
(٤) اس کے بعد وہ دونوں پہلو سپید ہوجاتے ہیں اگر چہ
ان کی سپیدی مائل بہ تیرگی ہوتی ہے اور جنوبًا شمالًا اس کا عرض بہت خفیف ہوتا ہے،
اس وضع پر یہ ابتدائے صبح ہے اور اس وقت میں ہمارے مشائخ کرام کو اختلاف ہے: بعض نے
اُسے صبح قرار دیا اور یہی احوط ہے، بعض نے
بلحاظ
شرط استطارہ وانتشارا اسے بھی صبح کاذب کے حکم میں رکھا اور یہی اوسع ہے۔ ان جمیع
حالتوں میں عمود کے تمام بالائی حصے کے آس پاس نری سیاہی ہوتی ہے۔
(٥) اس کے بعد دونوں پہلوؤں کی یہ سپیدی آنًافانًا
جنوبًا شمالًاپھیلنًا شروع ہوتی ہے اور ایك خفیف دیر میں پھیل جاتی ہے۔ اس طور پر
یہ
یقینی اجماعی صبح صادق ہے اور ہنوز وہ عمود بدستور باقی، اور اس کے تین طرف سیاہی
ہوتی ہے مگر یہ سچی سپیدی جیسی جیسی جنوب شمال میں پھیلتی ہے ساتھ ہی نیچے سے اوپر
چڑھتی جاتی ہے برعکس سپیدی کاذب کے کہ اوپر سے نیچے بڑھتی آتی تھی یہاں تك کہ اب
وہ عمود سپید رفتہ رفتہ اس منتشر سپیدی میں گم ہوتے ہوتے فنا ہوجاتا ہے یعنی اُس
کے اطراف کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع