30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رابعًا: عوام صبح کا طلوع ہونا سُنتے ہیں تو اپنے زعم میں یہ گمان کرتے ہیں کہ افق یعنی زمین کے کنارہ سے یہ سپیدی اُٹھتی ہوئی جب بلندی پر آتی ہے تو ہمیں مکانوں میں یا چھت پر دکھائی دیتی ہے جیسے آفتاب وغیرہ ستارے شہر میں اپنے طلوع سے دیر کے بعد نظر آتے ہیں اس بنا پر وہ صبح ہوتی دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ بہت پہلے ہوچکی ہے جب تواتنی بلندی آگئی ہے حالانکہ یہ بھی ان کا محض وہم ہے بلکہ یہ سفیدی افق سے بہت اونچی ہی ہماری نظروں میں پیدا ہوتی ہے۔ فرض کیجئے کہ آدمی جنگل بلکہ سمندر میں ہوکہ نگاہ کے سامنے درخت، غبار، ابر وغیرہ کوئی شے اصلًا حائل نہ ہوتو وہاں بھی یہ بیاض افق سے بہت اوپر ہی حادث ہوگی اور اس کے نیچے تمام کنارہ آسمان تاریك ہوگا، اسی کو تو یعقبہ ظلمۃ( اس عقب میں ظلمت ہوتی ہے۔ت) کہا گیا، اپنی ہی سمجھ کے قابل یوں سمجھیں کہ نظر بواقع ضرور رہے کہ آفتاب کی کرنیں پہلے اُس حصّے میں سپیدی لاتی ہوں گی جو کنارہ زمین کے متصل ہے مگر وہ نہ کبھی محسوس ہوئی، نہ ہو، افق میں بخارات کا ازدحام اور خطوط نظر کا صدہا مَیل بخار وغیرہ کثافات کو طے کرکے اُفق تك جانا، آفتاب کی دھوپ جیسی روشن چیز کو کتنا میلا کرکے دکھاتا ہے کہ سپیدی کی جگہ سرخی معلوم ہوتی ہے اور تیزی نام کو نہیں ہوتی پھر یہ خفیف ضعیف سپیدی کیا اس قابل ہے کہ افق میں نظر آسکے جو صاف بھی کم ہے اور نظر سے دُور بھی بہت ہے یہ تو ہمیشہ اوپر چمکے گی جہاں نظر سے قُرب بھی ہے اور جگہ بہ نسبت افق صاف تر ہے۔
خامسًا: بعض کتب میں واقع ہُوا کہ صبح رات کا ساتواں حصّہ ہے ، اسے لوگ ہر موسم میں وہر مقام کے لیے عام سمجھ لیے، حالانکہ جن عالم نے ایسا فرمایا وہ اُس موسم اور اُس عرض بلد کے لیے خاص تھا ورنہ یقینا صبح ہمارے بلاد میں رات کے چھٹے حصّے سے دسویں حصے تك ہوتی جس کی مفصل جدول فقیر نے اپنے فتاوٰی میں لکھی ہے اس ماہِ مبارك میں بھی صبح رات کے نویں حصے سے دسویں حصے تك ہے، جو لوگ ساتواں حصہ لگائیں گے وُہ آپ ہی رات کو دن بنائیں گے، اب ہم بتوفیق اﷲ تعالیٰ صبح کاذب کے شروع سے صبح صادق کے انتشار تك جو صُورتیں اس سپیدی کی پیش آتی ہیں اُن کا واضح بیان کرتے ہیں جو آج تك کسی کتاب میں نہ لکھا گیا جو ہمارا برسوں کا مشاہدہ ہے اور جسے بغور سمجھ لینے والا اِن شاء اﷲتعالیٰ بہت جلد صبح کاذب و صادق میں امتیاز کا ملکہ پیدا کرسکتا ہے:
(١) اُفق سے کئی نیزے بلندی پر جانب مشرق آج جہاں سے
آفتاب نکلنے کو ہو، اس کی سیدھ میں یعنی دائرہ منطقۃ البروج کی سطح کرہ بخار پر
رات کی اندھیری میں ایك خفیف سپیدی کا دھبّہ پیدا ہوتا ہے جسے چاروں طرف سے رات کی
اندھیری گھیرے ہوئے ہے اس انداز پر ١؎
یہ صبح کاذب کی بنیاد پڑتی
ہے۔
(٢) جُوں جوں آفتاب افق کے نزدیك آتا جاتا ہے یہ سپیدی ترقی کرتی ہے مگر ترقی معکوس یعنی اوپر سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع