30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب مولوی ریاست علی خاں صاحب سے دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ اُس کا روزہ تھا کیونکہ وُہ وقت سحری کھانے کا تھا اور نیز اس اشتہار میں جو مسائل بابت رمضان المبارك اور وقت افطار اور وقت سحری اور مسائل تراویح کے لکھے ہیں وہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ صحیح لکھے ہیں یا نہیں، بندہ اشتہار مذکور روانہ خدمت عالی کرتا ہے اور بعد ملاحظہ جملہ اشتہار کے اس کے صحیح اور غیر صحیح پر توجہ فرمائی جائے،اور اگر غلط ہے تو جس جس مسئلہ میں غلطی ہو اُس کا جواب بحوالہ کتاب ارقام فرمادیجئے، اگر نقشہ غلط ہوتو بابت نقشہ کے اسی قدر کافی ہے کہ نقشہ غلط ہے اور اس اشتہار کے بھیجنے کی بابت جناب مخدوم و مکرم مولوی ریاست علی خان صاحب نے بھی تاکید فرمائی تھی جب میں نے عرض کیا تھا کہ اس اشتہار کو بریلی روانہ کروں گا تو فرمایا کہ ضرور بھیج دو تاکہ وہاں سے جواب آنے کے بعد اُس اشتہار کی صحت اور غلطی کا اعلان کرادیا جائے۔فقط۔
الجواب:
بعد مراسم سنت ملتمس، بعد سوال، جواب واجب اور وقتِ وجوب اظہارِ صواب لازم، اوقاتِ صحیح نکالنے کا فن جسے علمِ توقیت کہتے ہیں، ہندوستان کے طلبہ تو طلبہ اکثر علماء اس سے غافل ہیں، نہ وہ درس میں رکھا گیا ہے نہ ہیأت کی درسی کتابوں سے آسکتا ہے اور جو کچھ مسالہ مولوی مسیح الدین خاں کا کوروی وغیرہ بنا گئے وہ فقط ناکافی ہی نہیں بلکہ سخت اغلاط میں ڈالنے والا ہے، یونہی مرزاخیراﷲمنجم کی دوحرفی جدول سے کوئی ناواقف فن نفع نہیں پاسکتا، اگر کسی نے بڑی تحقیقات چاہی تو زیچ بہادر خانی کی جد اول تعدیل النہار سے کام لیا سحری کو تواُن سے کچھ تعلق ہی نہیں اور افطار میں بھی ناقص ہے جب تك متعدد ضروری اصلاحیں اُس کے ساتھ شریك نہ ہوں، پھر جسے وُہ اصلاحیں آتی ہیں اُسے اُن جدول کی کیا حاجت، فقیر نے اس فن میں نہ نری کتابی باتوں پر اعتماد کیا، نہ خالی دلائل ہندسہ پر، نہ تنہا تجربہ ومشاہدہ پر، بلکہ سب کو جمع کیا اور بتوفیق الٰہی اپنی ذہنی جدّتوں سے بہت کچھ کام لیا یہاں تك بفضلہ تعالٰی برہان و عیان کو مطابق کردیا، میرا نقشہ بفضلہ تعالیٰ جزاف نہیں ہوتا جو ہیأت و ہندسہ جانتا ہو وُہ اُسے براہین کے مطابق پائے گا، اور جو نگاہ رکھتا ہو صبح صادق وکاذب کو دیکھ کر پہچان سکتا ہو وُہ اسے مشاہدہ سے موافق پائے گا، میرے نقشوں میں بریلی کی سی سحری و افطار میں پانچ پانچ منٹ کی احتیاط ہوتی ہے اور دوسرے شہروں کا تقریبی وقت بھی اُسی صحت کے ساتھ دیا جاتا ہے کہ کم و بیش چار پانچ منٹ احتیاطی رہیں۔ جو نقشہ میرے بتائے ہوئے وقت سے جتنا مخالف ہو یقین جانئے کہ وہ اتنا ہی غلط ہے اگر چہ کسی کا بنایا ہوا ہو، دو٢نقشے اگر صحیح باقاعدہ دینے ہوں تو صرف اس قدر فرق کرسکتے ہیں کہ احتیاطی منٹ کسی نے دو ایك کم رکھے کسی نے زائد، یا ایك منٹ کی تحتانی کسروں میں کسی نے زیادہ تعمق کیا کسی نے بے ضرورت سمجھ کر مساہلت سے کام لیا وبس۔ اب آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع