30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

ان بیانوں سے واضح ہوا کہ راس السرطان کی صبح جس طرح تمام سال میں سب صبحوں سے باعتبار نسبت بڑی ہے کہ کوئی صبح اپنی رات کا اتنا بڑا حصہ نہیں ہوتی، یُونہی وہ مقدار میں بھی جمیع صبحوں سے زائد ہے کہ اتنی مدت کوئی صبح نہیں پاتی مگر اس کے خلاف راس الجدی کی صبح باآنکہ نسبت میں تمام صبحوں سے کم ہے کہ کوئی صبح اپنی رات کا اتنا چھوٹا حصّہ نہیں ہوتی لیکن وُہ مقدار میں سب سےکم نہیں بلکہ نصف جنوبی میں سب سے زائد مقدار کی فجر ہے، سال میں سب سے چھوٹی فجر فجر اعتدالین ہے مگر وُہ نسبت میں سب سے کم نہیں بلکہ نصف جنوبی میں سب نسبتوں سے زائد ہے، نیز روشن ہُوا کہ صبح کا اپنی مقدار چھوٹی بڑی ہونے میں مطلقًاتابع روز ہونا کہ جتنا دن گھٹے صبح چھوٹی ہوتی جائے اور جتنا بڑھے ترقی پائے، یا مطلقًا تابع شب ہونا کہ ہمیشہ اس کی کمی فزونی رات کی کاہش وبیشی پر رہے جیسا کہ آج کل کے ناواقف محاسبوں میں کسی نے اسے نہار کسی نے لیل کا ٹکڑا سمجھ کر گمان کیا ہے محض غلط ہے بلکہ صبح اپنی کمی بیشی میں میل شمسی کی تابع ہے اعتدالین پر کہ میل منتفی ہوتا ہے صبح سب سے چھوٹی مقدار پر ہوتی ہے پھر جتنا میل بڑھتا جاتا ہے صبح کی مقدار زیادہ ہوتی جاتی ہے یہاں تك کہ انقلاب پر اپنی اعظم مقادیر پر آتی ہے،پھر جس قدر میل گھٹتا ہے صبح چھوٹی ہوتی جاتی ہے حتی کہ اعتدال پر پھر اپنی انقص مقادیر پر آتی ہے اور انقلاب قطب ظاہر کے اعظم مقادیر، انقلاب قطب خفی کے اعظم مقادیر، سے بھی اعظم ہوتی ہے، یا عام فہمی کے لیے یُوں کہئے کہ صبح ہر دو نصف شمالی و جنوبی میں بڑے کی تابع ہے نصف شمالی میں دن ،رات سے بڑاہوتا ہے صبح اس کی زیادت و قلّت کے ساتھ بڑھتی گھٹتی ہے اور نصف جنوبی میں رات، دن سے بڑی ہوتی ہے، صبح افزائش و کاہش میں اُس کے ساتھ چلتی ہے، راس الحمل پر اپنی اقل مقدار تك پہنچ کر دن کے ساتھ بڑھنی شروع ہوئی، جب انقلاب صیفی میں دن اپنی نہایت زیادت پر آیا، صبح بھی غایت ازدیاد پر پہنچی، پھر دن گھٹنا شروع ہُوا، صبح بھی انہیں قدموں پر رجعت قہقری کرتی ہوئی گھٹتی چلی یہاں تك کہ اعتدال خریفی پر پھر اسی اقل مقادیر پر آگئی ، اب رات کے ساتھ فزونی کرنے لگی جب انقلاب شتوی نے شبِ یلدا(اندھیری اور طویل رات) دکھائی صبح بھی اس نصف میں اپنی اعظم مقادیر پر آئی، آگے رات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع