30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں بعض صحابہ رضی اﷲ عنہم نے حقیقی تاگے کو سمجھا تومن الفجر (فطر ہونے تک۔ت) نازل ہوا۔ تلك حدود اﷲ (یہ اﷲکی حدودہیں۔ت)کا نزول بھی کیا اسی طرح ہُوا ہے جبکہ بعض نے سفیدہ صبح تك کھایا ہو جس سے اندیشہ روزے میں خلل ہونے کے باعث ان احکامِ اربعہ کے بعد تلك حدود اﷲ نازل ہُوئی ہو یا یہ آیت نازل ہونے پر بھی صبح ظاہر ہونے تك کھانے کا معمول برابر جاری رہا عمومًا ہر ایك سحری کھاتا رہا۔
(٣) حضور سرورعالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کا سحری کھانا بالکل قریب صبح کے دوامی تھا یا اتفاقی، جیسا کہ بعض حدیثوں میں مروی ہے اور اگر معمول دوامی تھا تو کیا آخر تك رہا اور اسی طرح عمومًا سب کو اجازت تا آخر وقت بالقصد ہے یا اس حالت میں کہ آخر وقت ہی اس کو ملا ہوتب۔بینواتوجروا
الجواب :
(١) سب احکام مذکورہ کی طرف اشارہ ہے، معالم میں ہے:
|
تلك حدود اﷲ یعنی تلك الاحکام التی ذکرھا فی الصیام والاعتکاف[1] ۔ |
یہ اﷲکی حدود ہیں یعنی یہ وہ احکام ہیں جن کا ذکر اس نے روزے اور اعتکاف کے بارے میں فرمایا ہے(ت) |
بیضاوی میں ہے: ای الاحکام التی ذکرت[2] (یعنی وُہ احکام جو پیچھے ذکر ہُوئے ہیں۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم
(٢) اس آیت کا نزول مِنَ الْفَجْرِ[3]کے طور پر نہیں سحری کی تاخیر مستحب ومسنون ہے، احادیثِ صحیحہ میں نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے تعجیلِ افطار و تاخیرِ سحور کا حکم فرمایا اور ارشاد ہوا:"میری اُمت ہمیشہ خیر سے رہے گی جب تك افطار میں جلدی اور سحری میں دیر کرے گی۔"[4] مگر تعجیلِ افطار کے معنی یہ ہیں کہ جب غروبِ آفتاب پر یقین ہوجائے فورًا افطار کرلے وہم ووسوسہ کو دخل نہ دے نہ بلاوجہ رافضیوں کی طرح شب کا ایك حصہ داخل ہونے کا انتظار کرے، ایسی جلدی کہ ہنوز غروب میں شك ہو حرام ومفسدِ صوم۔ اور تاخیر سحری کے معنی یہ ہیں کہ اُس وقت تك کھائے جب تك طلوعِ فجر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع