30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ولہذا ہمارے علمائے کرام نے انہیں آیات واحادیث سے ثابت فرمایا کہ اگر تمام دن جنب رہا جب بھی روزہ کو کچھ مضر نہیں۔ مراقی الفلاح میں ہے:
|
اواصبح جنبا ولواستمرعلی حالتہ یوما او ایاما لقولہ تعالٰی فالئن باشروھن لاستلزام جواز المباشرۃ الی قبیل الفجر وقوع الغسل بعد ضرورۃ وقولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وانا اصبح جنباوانا ارید الصیام واغتسل واصوم١[1] ۔ |
یا کسی نے حالتِ جنب میں صبح کی اگر چہ وُہ اسی حالت میں ایك دن یا کئی دن رہا، کیونکہ اﷲتعالیٰ کا ارشاد گرامی"اب تم مباشرت کرسکتے ہو"اس بات کا متقضی ہے کہ فجر سے تھوڑا ساپہلے تك مباشرت جائز ہو اور اس کے بعد غسل لازم ہو، اور حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی"میں نے حالتِ جنابت میں صبح کی ہے اور میں روزے کا ارادہ رکھتا ہوں میں غسل کروں گا اور روزہ رکھوں گا۔(ت) |
بحرالرائق میں ہے:
|
لو اصبح جنبا لا یضرہ کذافی المحیط[2]۔ |
اگر کسی نے حالتِ جنب میں صبح کی تو نقصان دہ نہیں، محیط میں اسی طرح ہے۔(ت) |
عالمگیریہ میں ہے:
|
ومن اصبح جنبااواحتلم فی النھار لم یضرہ کذا فی محیط السرخسی[3]۔ |
جس نے بحالتِ جنابت صبح کی یادن کو احتلام ہوگیا تو یہ اسے نقصان دہ نہیں۔ محیط سرخسی میں اسی طرح ہے(ت) |
ہاں بوجہ ارتکاب کبیرہ اس کی نورانیت بالصوم میں فرق آئے گا، نہ اس لیے کہ جنب تھا کہ جنابت سے نورانیت میں تفاوت آتا تو بحالِ جنابت صبح کرنے سے بھی آتا بلکہ اس لیے کہ نماز فوت کی، یہاں تك کہ اگر نماز بحالِ جنابت ہوسکتی تو دن بھر بلکہ مہینہ بھر جنب رہنے سے بھی حصول نورانیت بصوم میں فرق نہ ہوتا، یہ فرق بوجہ فوت نماز ایسا ہوگا جیسے روزہ میں کسی کو ظلمًا مارنے سے، مگر اس سے کوئی نہ کہے گا کہ نفسِ صوم میں کوئی نقص آگیا، گناہ کے سبب روزے میں خلل آنا ظاہر یہ کا مذہب فاسد ہے، اس کی نظیر ایسی ہے کہ کوئی ریشمیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع